افغان طالبان کی عبوری حکومت کی جانب سے ایک نئے قانونی اقدام کے بعد عوامی و نجی املاک سے متعلق بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے قانون کے تحت بعض رہائشی زمینوں اور جائیدادوں کو سرکاری ملکیت قرار دینے کی اجازت دی گئی ہے، جس کے بعد ان زمینوں کی دوبارہ فروخت یا انتظامی کنٹرول کے امکانات بھی زیر بحث ہیں۔افغان جریدے افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق اس قانون میں مبینہ طور پر ایسے رہائشی علاقوں اور ہاؤسنگ اسکیموں کو بھی سرکاری زمین قرار دینے کی شق شامل ہے جو پہلے سے آباد ہیں۔ اس اقدام کے بعد سابقہ مالکانہ حقوق کے حوالے سے قانونی صورتحال پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت بعض زمینوں کو سرکاری قرار دے کر ان کے انتظام یا ممکنہ فروخت کے حوالے سے حکومتی اختیار بڑھایا گیا ہے، جس پر قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔
تاہم اس حوالے سے طالبان حکومت کی جانب سے ان رپورٹس پر تفصیلی وضاحت یا باضابطہ ردعمل سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس قانون پر مکمل عمل درآمد کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات افغانستان میں جائیداد کے حقوق، سرمایہ کاری اور شہری آبادکاری پر گہرے ہو سکتے ہیں۔