رمضان میں افطاری دینے کے لیے زکوٰۃ کا استعمال: شریعت کے مطابق اصول اور رہنمائی

رمضان میں افطاری دینے کے لیے زکوٰۃ کا استعمال: شریعت کے مطابق اصول اور رہنمائی

رمضان کے مہینے میں روزہ داروں کے لیے افطاری کا انتظام کرنا ایک نیک عمل ہے، اور زکوٰۃ کے مال کو افطاری کے لیے استعمال کرنا بھی شریعت کے مطابق جائز ہے، بشرطیکہ اصولوں کی پابندی کی جائے۔

اہم اصول یہ ہے کہ افطاری براہِ راست مستحقین کے حوالے کی جائے، تاکہ وہ اسے اپنا مال سمجھ کر استعمال کریں۔ صرف وہ افراد افطاری کے اہل ہوں جو واقعی مستحق زکوٰۃ ہوں، جیسا کہ قرآن مجید میں سورۃ التوبہ (آیت 60) میں فرمایا گیا:"زکوٰۃ صرف ان کے لیے ہیں جو غریب ہیں، یا وہ جو اس میں مشقت رکھتے ہیں..."

حدیث مبارکہ میں بھی فرمایا گیا ہے کہ:"جو شخص اپنے مال میں سے زکوٰۃ دیتا ہے اور وہ مال مستحق تک پہنچ جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔" (مسند احمد)اس طرح افطاری دینے کے لیے زکوٰۃ استعمال کرنا شریعت کے مطابق ہوگا اور روزہ داروں کو افطاری فراہم کرنے کا مقصد بھی حاصل ہو جائے گا۔