پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام: عالمی اداروں سے 20 ارب روپے قرض لینے کی تیاری

پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام: عالمی اداروں سے 20 ارب روپے قرض لینے کی تیاری

لاہور: پنجاب حکومت نے "پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام" کے تحت صوبے میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے مزید 20 ارب روپے قرض لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

 اس قرض کا حصول آسان شرائط اور کم شرح سود پر کیا جائے گا تاکہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل ممکن بنائی جا سکے۔ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت آئندہ ماہ سے ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک (ADB) کے ساتھ قرض سے متعلق باضابطہ مذاکرات کا آغاز کرے گی۔ یہ مذاکرات شہری ترقی کے شعبے میں جاری منصوبوں کو مالی سہارا دینے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔صوبائی حکام کے مطابق یہ رقم "شہری ترقی پروگرام" کے تحت انفراسٹرکچر، صفائی، پینے کے صاف پانی، ٹرانسپورٹ اور دیگر شہری سہولیات سے متعلق منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔ ان منصوبوں کا مقصد پنجاب کے شہروں میں معیارِ زندگی بہتر بنانا اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔حکام نے یہ بھی بتایا کہ پنجاب حکومت پہلے ہی ورلڈ بینک سے کل قرض کے 54 فیصد حصے کی ادائیگی کی ذمہ داری نبھا رہی ہے جبکہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے مجموعی قرض کا 21 فیصد حصہ صوبہ پنجاب کے ذمے ہے۔

 موجودہ فیصلہ اسی تسلسل میں آگے بڑھتے ہوئے کیا گیا ہے، تاکہ مالی وسائل کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ذرائع کے مطابق حکومت اس امر کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ قرض کی شرائط عوامی مفاد اور مالیاتی ذمہ داری کے اصولوں سے ہم آہنگ ہوں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ مذاکرات کے بعد ترقیاتی عمل کو مزید تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔پنجاب حکومت کے ترجمان کے مطابق یہ اقدام وزیراعظم شہباز شریف کے "ترقیاتی پاکستان" ویژن اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت کے تحت کیا جا رہا ہے، جنہوں نے حالیہ اجلاسوں میں شہری ترقی کو ترجیح دینے کا اعادہ کیا ہے۔