وفاقی وزیرِ مملکت داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کے اجلاس میں انسانی اسمگلنگ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے کوئی بھی فرد جعلی پاسپورٹ پر سفر نہیں کر سکتا، کیونکہ پاکستانی پاسپورٹ بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے اور اس پر جعلسازی ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث 200 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، اور حکومت اس جرم کے خلاف سخت اقدامات کر رہی ہے۔اجلاس کی صدارت خرم شہزاد نواز نے کی، جس میں مختلف ممبران نے انسانی اسمگلنگ کے مسئلے پر تفصیلی بحث کی۔ زرتاج گل نے اجلاس میں یہ بھی بتایا کہ کئی عرب ممالک نے ڈی جی خان کے افراد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے علاوہ، نوشین افتخار نے سوال کیا کہ کیا ڈی پورٹ ہونے والے افراد اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کوئی ایکشن لیا جاتا ہے؟ اس پر سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ قانون موجود ہے، اور انسانی اسمگلنگ یا ڈی پورٹ ہونے والے افراد کے پاسپورٹ پانچ سال کے لیے معطل کر دیے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ، طلال چوہدری نے کہا کہ وزارتِ داخلہ نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کر دیا ہے اور جلد ہی اس کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی جائیں گی۔