لگا ہے پاکستان کا بازار دیکھو!

 فرخ ریاض بٹ 
آج سندھ میں پی پی پی کی حکومت ہے تو حیدرآباد کا جلسہ بھر گیا اور جب یہ اپوزیشن یا حکومت سے باہر آگئے تو جلسہ گاہ خالی سڑکیں خالی گلیاں ہوں گی ۔ آج جب کہ حکومت یعنی وزیراعظم شہباز شریف اور نواز شریف کی جدو جہد سے ملک ڈیفالٹ سے نکلا معیشت اچھی سمت جانے لگی اگرچہ مہنگائی پر قابو نہ پاسکے لیکن پھر بھی سٹاک ایکسچینج تجارت کاروبار اپنی حد سے زیادہ بلندیوں کو چھونے لگے۔ آج نہ جانے بلاول بھٹو سیاسی طریقے سے بات چیت کرنے کی بجائے حیدرآباد میں سیاسی پاور شو کر کے سمجھ رہے ہیں کہ وہ اکیلے مسائل کا حل نکال لیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے ان کے آگے پانی کی خالی پیالی ہے۔ آج پھر یہ اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عوام لوگ قوم کی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے بلند و بانگ تقریریں کھپے پاکستان کھپے سندھ کے نعرے بلند کرنے لگے ہیں آج بلاول بھٹو MQM کی طرح جب ایم کیو ایم کسی بھی حکومت کا حصہ رہے اور جب جائز و ناجائز مطالبات نہ مانے گئے تو انہوں نے حکومت چھوڑنے کی دھمکی دے دی اور پھر اچانک ان کے ناجائز مطالبات مان لئے گئے اور ایم کیو ایم راضی ہو گئی۔ اب جب کہ بلاول بھٹو نے دیکھا کہ سندھ کے پی پی پی مخالف پارٹیوں کی مخالفت دیکھتے ہوئے انہیں سندھ میں پانی کی تقسیم پر پھر سیاست شروع کر دی۔ ساتھ ہی ساتھ بلاول بھٹو نے KPK بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کو دہرایا اور دہشت گردی کے خاتمے کی بات کی اور ساتھ ہی ن لیگ کی بھرپور مخالفت کی اور کہا اگر مطالبات منظور نہیں ہوتے تو پی پی پی حکومت سے الگ ہوجائے گی اور وفاق خطرے میں پڑجائے گا۔ PTI کے بانی خاموش ہیں اور اڈیالہ جیل میں بیٹھ کر ان کا تماشہ دیکھ رہے ہیں ان کو آپس میں لڑتے دیکھ رہے ہیں اگر حکومت اور پی پی پی ضد پر رہے تو وفاق ٹوٹنے کا خطرہ ہے اور فائدہ بانی کو ہوگا۔ نقصان وفاق کو اور ملکی سالمیت بقاء سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ اچھا ہوگا اگر بلاول بھٹو باہمی بات چیت ڈائیلاگ سے مسئلے کا حل نکالیں ضد میں اور شوخی میں اگر کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پرہیز کریں ورنہ ہوسکتا ہے ان کی سیاست بھی دم توڑ جائے۔ اب نہ تو وہ جیالے رہے نہ متوالے رہے حکومت کوئی بھی ہو ہمیشہ غریب بے کس مجبور لوگ پس جاتے ہیں میرا کسان میرا سندھی میرا محنت کش فاقے رہ جائے گا یہ سب سیاسی شعبدہ بازیاں ہیں۔ آئندہ کوئی سیاستدان خواہ بلاول بھٹو ہے یا مسلم لیگ ن کا کوئی کارندہ اکیلے حکومت نہیں بنا سکیں گے سب کو مل کر چلنا ہوگا ، چلنا پڑے گا آئندہ پی پی پی عام انتخابات میں قومی اسمبلی سے صرف90،92یا 86 سیٹ بمشکل لے سکے گی اور ن لیگ کا بھی یہی حال ہوگا آج اگر یہ اتحادی لڑ پڑے ضد نہ چھوڑی تو جو جیل میں ہیں وہ اقتدار میں آگئے تو پھر ان کی وہ شامت آئے گی کہ جو ان کا تصور بھی نہیں ہوگا اور سب کئے کرائے پر پانی پھر جائے گا پھر ملک تو درکنار کوئی بھی نہ سنبھل سکے گا۔