ڈاکٹر جاوید
ہم جس کہکشاں میں رہتے ہیں۔اسے ملکی وے کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
ہر کہکشاں کا دوسری کہکشاں سے فاصلہ کئی نوری سال پر محیط ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق اس میں تقریبا چار سو ارب ستارے ہیں۔
انہی تیس ، چالیس کہکشاؤں کے مجموعے کو ہم لوکل گروپ کہتے ہیں۔اس میں کھربوں ستارے ہیں۔
لیکن ان کھربوں ستاروں کی ویلیو کائنات کے سامنے ریت کے ایک ذرے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
پوری کائنات کے سامنے زمین ، سورج اور ہماری کہکشاں سب کی حیثیت بہت ہی معمولی سی ہے بلکہ یوں کہا جائے تو ہرگز غلط نہ ہو گا کہ اس کے سامنے سب کچھ ٹکے ٹوکری ہے۔
فلکیات کا یہ علم دراصل انسان کو اس کی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔جب انسان آسمان اور اس لامتناہی کائنات پر غور کرتا ہے تو اسے اپنی بے بسی اور چھوٹا پن صاف دیکھاء دیتا ہے۔
اگر ہم مشہور ماہر فلکیات کارل سیگن کی کتابوں کو پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہم واقعی کچھ بھی تو نہیں ہیں۔ہم جس زمین پر رہتے ہیں۔وہ کائنات کے مقابلے میں بہت ہی معمولی سی ہے اور وہ ستارہ جس کے گرد زمین گھوم رہی ہے ، سورج بھی پوری کائنات کے پیمانے پر بہت ہی چھوٹی ہے۔
یہ کائنات ہمیں سبق سکھاتی ہے کہ اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھنے کی غلطی کبھی نہ کریں کیونکہ کائنات کے سامنے ہماری زمین کی کوء اوقات نہیں ہے۔
ہمارا تو سوال ہی نہیں بنتا لیکن اس کے باوجود بعض لوگ اپنا آپ بھول جاتے ہیں۔
وہ طاقت ملنے پر انسان کو انسان نہیں سمجھتے ہیں۔
وہ اپنی اونچی ناک کے چکر میں راستے میں آنے والی ہر شے کو روند ڈالتے ہیں۔
ان کی انا پرستی ، خودپسندی اتنی بلند ہوتی ہے ، اسے بیان کرنا انتہائی مشکل ہے۔
میں نے بطور ڈاکٹر یہ مشاہدہ کیا ہے۔
میڈیکل پروفیشن میں ایسی شخصیات کی بھرمار ہے۔
خیر سے عمریں دیکھیں تو ساٹھ سال کو ٹچ کر رہی ہوتی ہیں یا اس سے بھی آگے ستر سال تک پہنچ چکی ہوتی ہیں۔
ان کا رعب ، دبدبہ ، رعونیت اسی طرح قائم و دائم ہوتی ہے ، جس طرح شان و شوکت سے آج سے تیس سال پہلے تھا۔
حسد ، کینہ پروری عمر کے اس حصے میں پہنچ کر بھی ختم نہیں ہوتی ہے۔
ان کو ہم جیسا کند ذہن اور نکما آدمی کان میں جا کر یہ کہہ دے کہ سر جی!
چغل خوروں سے دور رہیں ، یہ بد ذات کسی کے نہیں ہوتے ہیں ، اللہ واسطے اپنے ماتحتوں پر رحم کریں ،
ہاتھ ہولا رکھیں ، معاف کرنا سیکھیں ،
فائل خراب نہ کریں ، بددعا اور آہ جو نسلیں برباد کرتی ہے ، اس سے بچیں۔
بدقسمتی سے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہمارے اساتذہ کرام چھریاں مزید اور تیز کر لیتے ہیں حالانکہ ہر سرکاری ملازم کو اور کچھ یاد ہو یا نہ ہو ، اسے اپنی ریٹائرمنٹ کی تاریخ ضرور یاد ہوتی ہے مگر پھر بھی ان کی گردن غرور سے اکڑی رہتی ہے۔
وہ اپنے منصب سے خلق خدا کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے بجائے ، ان کی راہ میں کانٹے بکھیرتے ہیں۔
ان فرعونوں کی ریٹائرمنٹ پر ساتھی لڈیاں ڈالتے ہیں کہ شکر ہے اس بدبخت سے جان چھوٹ گئی۔
ایسے متکبروں کو لوگ قابل نفرت کردار کے طور پر یاد رکھتے ہیں اور کل کلاں روز محشر بھی گواہی کے کام آنے کی دلیلیں جا بجا بکھری پڑی ہیں کہ فلاں شخص بڑا سرکش ، دیدہ دلیر ، انسان کش تھا۔
ان ظالموں بارے اللہ پاک قرآن میں فرماتا ہے " اور اللہ کو ان کاموں سے ہرگز بیخبر نہ سمجھنا جو ظالم انجام دے رہے ہیں۔اللہ انہیں صرف ایک ایسے دن کے لئے ڈھیل دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی "
(ابراہیم 14 :42)
دوسری طرف اس بدبودار معاشرے میں رب کے دیے ہوئے انمول تحفوں کی بھی کمی نہیں ہے جن کا اوڑھنا بچھونا مخلوق کی خدمت سے عبارت ہوتا ہے جو درود شریف کے بعد قبول اور مقبول عبادت ہے۔
انسانیت سے پیار کرنے والے ان شاہکاروں کا تذکرہ ہر جگہ زمین و آسمان پر ہوتا ہے۔
لوگ ان کی غیر موجودگی میں ان کی تعریفوں کے پل باندھ دیتے ہیں۔
ان کے عزت سے گھر چلے جانے کے بعد سبھی ان کی کمی شدت سے محسوس کرتے ہیں۔
میں اکثر ان ہستیوں بارے کہتا ، لکھتا ہوں ، یہ ہیں زمین پر چلنے والے جنتی لوگ جن کی خوشبو بتاتی ہے ، وہ کون لوگ ہیں ؟
میرا ایک جگری دوست اللہ کے ان پسندیدہ بندوں کا ذکر کرتے آبدیدہ ہو جاتا ہے اور ساتھ ہی
اپنے ساتھیوں کی طرف سے کی جانے والی انتہائی بے ہودہ ، گھٹیا اور نیچ حرکات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتا ہے۔
یار کام کرنے والے کی یہاں کوء عزت نہیں ہے ، چاپلوسی کرنے والے نکموں کی ہر جگہ چاندی ہے۔
میں اس سے کہتا ہوں۔
یار تم سازشیں کرنے والے حیوانوں کی طرف دھیان دے کر اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کرو ، اک دن وہ اپنی موت آپ مر جائیں گے ، تم نادار مریضوں کی خدمت کرتے جاو ، روز قیامت انہی غریبوں کے درمیان میرے سرکار نبی آخر الزماں پیارے کریم مدنی آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملیں گے ، یہی بے سہارا لوگ تمہاری بخشش کا سبب بنیں گے ، تم پلیز لوگوں کی زیادتیوں کا بار بار تذکرہ نہ کیا کرو ، مکانات عمل کی چکی میں پسنے والے ان بدمست ہاتھیوں کی لاچارگی میں کء بار آء سی یو میں دیکھ چکا ہوں ، جب ان کو اولاد بھی منہ نہیں لگاتی ہے اور بھلا مٹی کے یہ پتلے کسی کو دے ہی کیا سکتے ہیں ؟
تمہیں اجر اس واحدہ لاشریک نے دینا ہے ، اس سے لو لگاو ، تم عرضی ڈالو ، وہ آنسوؤں کی قدر کرنے والا شہنشاہ ہے ،
وہ کہتا ہے ، ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا ؟
تم مانگ کر تو دیکھو۔