آج کا پاکستان،یہ ہے میرا پاکستان!

 مہر اشتیاق احمد
تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ قوموں کی زندگی میں ایسے لمحات بہت کم آتے ہیں جب وہ اپنی جغرافیائی حدود سے باہر نکل کر عالمی سیاست کا رخ متعین کرتے ہیں،پاکستان جو کہ اپنے قیام سے ہی مختلف اندرونی و بیرونی چیلنجز کا شکار رہا،آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کی سفارتی حکمت عملی اور دفاعی بصیرت نے دنیا کے بڑے بڑے ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔سوشل میڈیا سے لے کر عالمی میڈیا تک،آج ایک ہی بازگشت سنائی دے رہی ہے کہ پاکستان نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔یہ محض جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ان ٹھوس اقدامات کا تسلسل ہے جس نے دشمنوں کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا اور دوستوں کے سر فخر سے بلند کر دیے۔

حالیہ دنوں میں پاکستان کی جوخارجہ پالیسی رہی اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ایک طرف جہاں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سنگین تھی، وہاں پاکستان نے برادر اسلامی ملک ایران کے دفاع کے لیے جس جرات مندانہ موقف کا اظہار کیا،اس نے مسلم امہ کے اتحاد کو نئی زندگی بخشی۔یہ پیغام واضح تھا کہ پاکستان اپنے پڑوسیوں کے دفاع اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔دوسری جانب عالمی سیاست کے بے تاج بادشاہ امریکہ کو اپنی شرائط اور علاقائی حقائق پر قائل کرنا کوئی معمولی معرکہ نہ تھا۔پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ اب ’’ڈو مور‘‘کے مطالبے پر نہیں بلکہ برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے کا قائل ہے۔امریکہ جیسے ملک کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کرنا ہماری سفارتی جیت ہے۔بات صرف سفارت کاری تک محدود نہیں رہی بلکہ جب ملک کی بقا اور سرحدوں کی حفاظت کی بات آئی تو پاکستان نے اپنی روایتی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی اور شرپسندی کو روکنے کے لیے جس طرح’’پھینٹی‘‘ لگائی گئی،اس نے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے۔یہ ایک واضح پیغام  تھا کہ پاکستان کی نرمی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔اسی طرح مشرقی سرحدوں پر بھارت کی ہٹ دھرمی اور عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی مہم کو جس طرح شکست دی گئی،اس نے مودی سرکار کو عالمی سطح پر ’’نکرے‘‘ لگا دیا ہے۔آج بھارت اپنی ہی بونی سیاست کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے جبکہ پاکستان کا موقف عالمی فورمز پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی اس کامیابی کے پیچھے’’آہنی بھائی‘‘ چین کے ساتھ مسلسل مشاورت اور اسٹریٹجک شراکت داری کا بڑا ہاتھ ہے۔چین کے ساتھ ہر قدم پر مشاورت نے پاکستان کو عالمی تنہائی سے بچایا اور سی پیک جیسے منصوبوں کو نئی جلا بخشی۔دوسری طرف روس کے ساتھ تعلقات میں آنے والی گرمجوشی اور وہاں سے ملنے والی بھرپور حمایت نے ثابت کر دیا کہ پاکستان اب صرف ایک بلاک کا حصہ نہیں بلکہ اپنی خارجہ پالیسی میں جدت  لا چکا ہے۔روس کی حمایت حاصل کرنا سرد جنگ کے بعد پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی قرار دی جا سکتی ہے۔پاکستان نے صرف دفاع اور سیاست ہی نہیں بلکہ معاشی اور جنگی  تعلقات میں بھی نئے سنگ میل عبور کیے ہیں۔متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاشی تعاون اور وہاں سرمایہ کاری کے نئے باب کھولنااور سعودی عرب جیسی عظیم طاقت سے ایئر بیس کا حصول وہ کامیابیاں ہیں جن کا تصور چند سال پہلے محال تھا۔سعودی عرب کا پاکستان پر یہ اعتماد کہ وہ اسے اپنی زمین پر ایئر بیس فراہم کرے،دونوں ممالک کے مابین اس گہرے دفاعی تعلق کو ظاہر کرتا ہے جو وقت کی ہر دھوپ چھاؤں میں کندن بن کر ابھرا ہے۔ان اقدامات نے جہاں عالمِ اسلام کے اتحاد کو مضبوط کیا، وہیں اسرائیل جیسی غاصب قوتوں کے لیے یہ پیغام بھیج دیا کہ پاکستان اب خاموش تماشائی نہیں بلکہ ایک فعال کھلاڑی ہے۔

اسرائیل جو کہ خطے میں مسلسل بدامنی کا باعث بنا ہوا ہے،پاکستان کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اسلامی ممالک کے ساتھ اس کا دفاعی تعاون اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر ابھرا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج جب پاکستان کی آواز گونجتی ہے تو دنیا بھر سے امید اور شکریہ کے فون کالز کا تانتا بندھ جاتا ہے۔عالمی رہنما تسلیم کر رہے ہیں کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کا کردار ناگزیر ہے۔یہ سب کچھ کسی معجزے سے کم نہیں۔ایک ہی وقت میں اتنے سارے محاذوں پر کامیابی حاصل کرنا، معیشت کو سنبھالا دینا اور عالمی سطح پر اپنا وقار بلند کرنا،یہ ہے میرا پاکستان!یہ وہ پاکستان ہے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور جس کی بنیاد قائد اعظم نے رکھی تھی۔الحمدللہ،آج ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہماری سمت درست ہے اور ہماری منزل اب زیادہ دور نہیں۔یہ فتوحات ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ اگر ہم متحد رہیں اور اپنے اداروں پر اعتماد رکھیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں جھکا نہیں سکتی۔آج کا پاکستان صرف ایک ریاست نہیں بلکہ مظلوموں کی امید،اسلام کا قلعہ اور عالمی امن کا داعی ہے۔ہمیں اس وقار کو برقرار رکھنے کے لیے مزید محنت اور اخلاص کی ضرورت ہے۔قوموں پر ایسے وقت آزمائش کے بھی ہوتے ہیں اور عروج کے بھی،اور یہ وقت پاکستان کے عروج کا ہے۔آئیے ہم سب مل کر اس عزم کا اعادہ کریں کہ اپنے پیارے وطن کی عظمت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔