نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ھے۔۔۔

 قاضی کاشف نیاز
دو قومی نظریہ پہ بننے والا ملک آج ایک بار پھر دو راھے پہ کھڑا ھے۔۔بھانت بھانت کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔۔۔قسما قسم کے فتنوں کی آگ ملک میں لگی ھے۔۔ایک دوسرے پہ لعن طعن اور گالم گلوچ کی بھرمار ھے۔۔سب ایک دوسرے سے دست بہ گریبان ہیں۔۔مچھلی منڈی کا سا منظر ھے۔۔۔ملک کے سیاسی و معاشی حالات کے لیے سب ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رھے ہیں۔۔۔وہ کہتا ھے کہ تم ذمہ دار ھو اور وہ کہتا ھے کہ تم ذمہ دار ھو۔۔اس سب پہ مستزاد کہ سوشل میڈیا کے آوارہ دور میں کسی معزز سے معزز بندے کی پگڑی محفوظ نہیں۔۔۔اگر کسی کا کسی سے اختلاف ھو گیا تو پھر پگڑی اچھالنا معمولی بات ھے، یہاں تک کہ بات فورا ماں بہن تک پہنچ جاتی ھے۔۔۔یوں لگتا ھے کہ جیسے ماں بہنوں کی نیلامی کی عام منڈی لگی ھے۔۔اور ھم کسی شریف معاشرے میں نہیں،کسی"اس بازار" کے رہنے والے ہیں جہاں ماں بہن اور ایک دوسرے کی عزت کی کوئی تمیز نہیں ھوتی۔۔الامان الحفیظ
بھائیو، جھگڑا کس گھر اور کس ملک میں نہیں ھوتا۔۔۔لیکن جھگڑے آخر کسی مشترکہ بنیاد پہ ختم ھو جاتے ہیں۔۔۔ہاں جہاں کوئی مشترکہ بنیاد موجود نہ ھو تو پھر جھگڑے واقعی ختم نہیں ھوتے بلکہ وہ بالآخر ہولناک فساد کی صورت اختیار کر جاتے ہیں۔۔۔۔پھر ایک درخت کو لگی آگ پورے جنگل کو راکھ بنا کے رکھ دیتی ھے۔۔ایک گھر کو لگی آگ پورے شہر کو جلا کر بھسم کر دیتی ھے۔۔۔لیکن جب مشترکہ بنیاد موجود ھو تو وہ بنیاد فائر ایگسٹنگائشر(Fire extinguisher( یعنی فوری  آگ بجھانے والا آلے کا کام دیتی ھے۔۔۔
یہ کیسی حرماں نصیبی ھے کہ کسی کے پاس آگ بجھانے والا آلہ موجود ھو، وہ پھر بھی اس سے کام نہ لے تو پھر اس آگ کو ایک مہیب آگ کی صورت میں بھڑکنے اور پھیلنے سے کون روک سکے گا۔۔۔
اللہ نے ہمیں ایک خوبصورت ملک دیا۔۔۔۔ہر طرح کی نعمتوں سے مالا مال ملک۔۔کون سی نعمت ھے جو اس ملک میں موجود نہیں۔۔۔سب سے پہلے تو چار موسم اس ملک کو دیئے۔۔۔دنیا میں کتنے ہی ملک ہیں جو اس نعمت سے محروم ہیں۔۔۔لوگ سارا سارا سال سورج کو ترستے ہیں اور انہیں سورج کی شکل تک دیکھنا نصیب نہیں ھوتی۔۔۔سردی سے ٹھٹھر کے وہ کوئی کام کرنے کے قابل نہیں رہتے۔۔۔کہیں پہاڑ نہیں تو کہیں میدان، صحرا اور سمندر نہیں۔۔۔اور وہ لینڈ لاکڈ ملک کہلاتے ہیں جو دنیا سے چیزیں لانے لے جانے کے لیے سمندر والے ملکوں کے محتاج ھوتے ہیں۔۔۔۔۔۔پاکستان کے پاس دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کیٹو کی صورت میں موجود ھے۔۔دیو سائی کی صورت میں دنیا کی چھت موجود ھے۔۔ہر طرح کے ہر موسم کی سبزیاں اور  پھل فروٹ موجود۔۔۔اور اتنے شیریں کہ ایسے ذائقے کے لیے بہت سے ملک ترستے ہیں۔۔۔کہیں لہلہاتی فصلیں ہیں تو کہیں موجیں مارتے پانی کے چشمے،جھیلیں،دریا اور سمندر موجود اور کہیں پہاڑوں کے اندر چھپے سونے چاندی اور دیگر بیشمار معدنیات کے خزینے۔۔لیکن ھم پھر بھی آپس میں لڑیں تو ایمان سے بتائیں،اسے کفران نعمت نہ کہا جائے گا تو اور کیا کہا جائے گا۔۔یہی تو وہ خزانوں سے معمور ملک ھے جو اپنے ابتدائی دو عشروں میں ہی جرمنی جاپان جیسے ملکوں کو بھی قرضے دیتا تھا۔۔۔اور ایک بڑے عرصے تک ہماری کرنسی کی شرح ہمارے سے پانچ گنا بڑے دشمن ملک بھارت سے ڈیڑھ دو گنا زیادہ ھوتی تھی اور دشمن ہماری معیشت پہ رشک کرتا تھا۔۔۔جب آج کیامبانی، ٹاٹا،برلا جیسے بھارتیوں سے ہمارے بائیس خاندان ان سے کئی گنا زیادہ امیر تھے اور ملکی صنعت و معیشت کو انہوں نے بام عروج پہ پہنچایا ھوا تھا۔۔۔جب ھم نے 65ء￿  میں بھارت جیسے دیو کو خاک چٹائی۔۔۔یہ سب اسی کلمے اور نظریے کی بدولت ہی ممکن ھوا، جب دشمن لاھور پہ قبضے کے خواب دیکھتا ھم پہ چڑھا تو پھر ہمارے ملک کے سربراہ نے اپنی فوج کو کلمہ پڑھ کر ہی دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کا حکم دیا تھا اور ھم الحمدللہ ایک بار پھر اسی کلمے کی وجہ سے کامیاب ھوئے لیکن جب یہ نظریہ اور یہ جذبہ ماند پڑ گیا،ھم کلمہ چھوڑ کر علاقے اور زبان کے جھگڑوں میں پڑ گئے تو پھر ملک بھی دولخت ھوا اور ھم پیچھے ہی پیچھے جانے لگے۔۔
آج ایک بار پھر ھم انہی جاہلانہ جھگڑوں میں پڑے ہیں۔۔۔ کوئی کہتا ھے کہ میں اگر پانی نہ دوں تو ملک میرے ہانی کے بغیر نہ چل سکے گا۔۔۔کوئی کہتا ھے کہ میرے پاس گندم اور فصلیں ہیں۔۔۔میں گندم نہ دوں تو ملک بھوکا مر جائے گا۔۔۔۔کوئی کہتا کہ میرے پاس معدنیات اور تیل و گیس کے ذخیرے ہیں۔۔۔میں یہ سب نہ دوں تو سب کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے۔۔۔یہ تو بالکل ایسی بات ھے کہ ہاتھ کہیں کہ میرے بغیر کوئی کام نہیں ھو سکتا۔۔آنکھیں کہیں کہ میرے بغیر تم کسی چیز کو جب دیکھ ہی نہ سکو گے تو کام کیا کرو گے۔۔۔کان اپنی جگہ کہیں کہ جب تم کچھ میرے بغیر سن ہی نہ سکو گے تو سارے کام الٹے سیدھے کرو گے۔۔۔اسی طرح دل،دماغ ،جگر ،پھیپھڑے سب اپنی اپنی اہمیت جتائیں کہ ان کے بغیر کچھ نہیں ھو سکتا۔۔حالانکہ ایک انسان ان سب اعضاء￿  کا ہی مجموعہ ھے۔۔کوئی ایک بھی نہ ھو تو اس میں سب کا نقصان ھے۔۔۔سب کی اپنی اپنی جگہ برابر اہمیت ھے۔۔۔کسی ایک کے بغیر بھی انسان انسان نہیں رہتا۔۔۔اور ہاں۔۔۔ چلو  ٹھیک ھے،آپس میں جھگڑا ھو جاتا ھے۔۔۔کہیں بھی جھگڑے ھو جانا کوئی بڑی بات نہیں لیکن جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے بھی اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ھے کہ اس نے ہمیں ایک مشترکہ بنیاد دی ھے۔۔اسی مشترکہ بنیاد پہ ملک بنا تھا اور اسی مشترکہ بنیاد پہ ھم اپنے جھگڑے بھی حل کر سکتے ہیں۔۔۔یہ بنیاد کلمہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ھے۔۔۔اگر کل ھم اپنے سارے جھگڑے اور زمان و مکان اور لسان کی تفریق و تمیز بھلا کر متحد ھو سکتے ہیں اور اس بنیاد اور اتحاد کی برکت سے ھم اپنے دشمن انگریز اور ہندو دونوں سے لڑ کے ایک بہت بڑا  آزاد ملک حاصل کرنے کا معجزہ سر انجام دے سکتے ہیں تو آخر آج ھم اپنے جھگڑے اسی بنیاد پہ کیوں ختم نہیں کر سکتے۔۔۔بس صرف اتنا عہد کرنا ھو گا کہ ھم پنجابی ،سندھی،بلوچی ، پٹھان،سرائیکی،کشمیری بعد میں اور سب سے پہلے مسلمان ہیں۔۔اور یہ عہد کرنا ھو گا کہ ھم مسلمان آپس میں جیسے کیسے رہ لیں گے،روکھا سوکھا بھی کھا لیں گے لیکن ھم کافر ہندو دشمن کا ہمیں باھم لڑانے کا ایجنڈا کسی صورت پورا نہ ھونے دیں گے،وہ ہمیں مختلف طریقوں سے لڑانے کی کوشش کرتا ھے۔۔۔ہر ایک کو کہتا ھے کہ تمہارے وسائل تمہارا دوسرا بھائی کھا رہا ھے لہذا تم اٹھو، اس کا گریبان پکڑو،اس کی گردن مارو۔۔۔۔بھائیو۔۔آپس کے مسائل مل بیٹھ کے حل کیے جاتے ہیں اور حل ھو جاتے ہیں لیکن دشمن کا ہمیں باھم لڑانے کا ایجنڈا ھم نے کسی بھی پرفریب نعرے اور کسی بھی صورت پورا نہیں ھونے دینا۔۔۔یقین مانیں، جب ھم یہ عہد کر لیں گے تو پھر ہمارے سب مسائل بھی ضرور حل ھوں گے۔۔اگر نظریہ پاکستان یعنی کلمے کی بنیاد پہ ھم سارے جھگڑے ختم کر کے الحمدللہ عالم اسلام کا سب سے بڑا ملک حاصل کرنے کا محیر العقول کارنامہ انجام دے سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اسی بنیاد پہ ھم اپنے آج کے جھگڑے بھی ختم نہ کر سکیں۔۔بس ہمیں اقبال کی زبان میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے

بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ھو جا 

تورانی رھے باقی نہ ایرانی نہ افغانی

قوم مذھب سے ھے،مذھب جو نہیں،تم بھی نہیں 
جذب باھم جو نہیں،محفل انجم بھی نہیں