کاشف بٹ
ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں لوگوں کے دل تنگ اور لہجے کڑوے ہوتے جا رہے ہیں۔ معمولی بات پر چیخ و پکار، چھوٹی سی رنجش پر دشمنی، ذرا سا اختلاف رائے ہو تو نفرت… یہ سب ہمارے روز و شب کا حصہ بن چکا ہے۔ گویا برداشت ہماری زندگیوں سے رخصت ہو چکی ہے اور اس کی جگہ غصے اور تشدد نے لے لی ہے۔یہ سب کیوں ہے؟ اس لیے کہ ہم نے صبر و شکر، برداشت اور رواداری کی تعلیمات کو بھلا دیا ہے۔ گھروں میں والدین کی تلخی، بچوں کی تربیت پر غفلت، تعلیمی اداروں میں اخلاقیات کی کمی اور سڑکوں پر لاقانونیت… یہ سب ہماری اجتماعی بیماری کی علامات ہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا نے بھی نفرت انگیزی کو ایک عام کلچر بنا دیا ہے۔ ہم نے سیکھ لیا ہے دوسروں کی رائے کو برداشت کرنے کے بجائے انہیں خاموش کرانا ہے، چاہے اس کے لیے زبان استعمال ہو یا ہاتھ۔ دوسری جانب انصاف کا فقدان بھی تشدد کو بڑھا رہا ہے۔ جب قاتل اور ظالم کو بروقت سزا نہیں ملتی تو معاشرے کے دوسرے افراد بھی اسی روش پر چل نکلتے ہیں۔ یوں ظلم، تشدد اور عدم برداشت ایک وائرس کی طرح پورے معاشرے میں پھیلتا جا رہا ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے دلوں کو کشادہ کریں، گھروں میں محبت کو پروان چڑھائیں، بچوں کو برداشت اور احترام سکھائیں۔ اساتذہ صرف کتابی علم نہ دیں بلکہ کردار سازی کریں۔ میڈیا کو نفرت کے بجائے امن اور بھائی چارے کا پیغام دینا ہوگا۔ اور سب سے بڑھ کر ریاست کو انصاف کو یقینی بنانا ہوگا، کیونکہ جہاں انصاف ہوتا ہے وہاں تشدد کی زمین خود بخود بانجھ ہو جاتی ہے۔ہم سب کو یہ ماننا ہوگا کہ معاشرہ اسی وقت بہتر ہو سکتا ہے جب ہم برداشت اور صبر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یاد رکھیے:اگر ہم نے برداشت کو زندگی کا حصہ نہ بنایا تو تشدد ہمارا مقدر اور نفرت ہماری پہچان بن جائے گی۔"