جنرل اسمبلی اعتماد کی بحالی اور جنگ کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو، ایرانی صدر

جنرل اسمبلی اعتماد کی بحالی اور جنگ کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو، ایرانی صدر

تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امید ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس عالمی سطح پر اعتماد کی بحالی اور جنگ و خونریزی کے خاتمے کی کوششوں میں مددگار ثابت ہوگا۔

نیویارک روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ رواں سال جنرل اسمبلی کا بنیادی موضوع عالمی اعتماد کی بحالی ہے، ایسے میں یہ اجلاس مختلف ممالک کے درمیان باہمی اعتماد بڑھانے اور موجودہ تنازعات کے حل کے لیے سفارتی راستے تلاش کرنے کا موقع فراہم کرسکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی رواں سیشن کے لیے ’’اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام‘‘ کو مرکزی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ایرانی صدر نے کہا کہ ایرانی وفد جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم کو ایران کا مؤقف عالمی برادری کے سامنے رکھنے کے لیے استعمال کرے گا۔ ان کے مطابق ایران کے عوام کو جنگ کے دوران پیش آنے والے نقصانات، ملک کے خلاف ہونے والی کارروائیوں اور ان کے اثرات سے عالمی رہنماؤں کو آگاہ کیا جائے گا۔مسعود پزشکیان کے مطابق ایرانی وفد خصوصاً میناب اور لامرد میں پیش آنے والے واقعات کا معاملہ بھی اٹھائے گا اور ان حملوں میں ایرانی شہریوں، بالخصوص بچوں کو پہنچنے والے نقصان پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائے گا۔ ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے ذمہ داروں کے حوالے سے بھی عالمی سطح پر بات ہونی چاہیے۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے ایران سے متعلق آزاد بین الاقوامی فیکٹ فائنڈنگ مشن نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اسے فروری میں میناب کے ایک اسکول اور لامرد کے ایک اسپورٹس مرکز پر امریکی حملوں کے حوالے سے جنگی جرائم کے ارتکاب پر معقول بنیادیں ملی ہیں۔ مشن کے مطابق میناب کے اسکول پر حملے میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں تقریباً 120 بچے شامل تھے، جبکہ لامرد میں حملے کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

تاہم اقوام متحدہ کا فیکٹ فائنڈنگ مشن ایک تحقیقاتی ادارہ ہے، عدالت نہیں؛ اس لیے اس کے نتائج کسی حتمی عدالتی فیصلے کے مترادف نہیں ہیں۔ رپورٹ کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سامنے پیش کیا جانا ہے، جبکہ امریکی حکام نے ماضی میں کہا ہے کہ امریکی فوجی کارروائیاں مسلح تنازعات کے قانون کے مطابق کی جاتی ہیں۔مسعود پزشکیان کا نیویارک کا دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان فوجی تنازع جاری ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور ممکنہ مذاکرات کے امکانات بھی زیر بحث ہیں۔ حالیہ دنوں میں علاقائی ممالک کی جانب سے بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں کی جارہی ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی صدر سے ملاقات کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا، جبکہ امریکی انتظامیہ نے ایرانی قیادت کو جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کے لیے سفری اجازت بھی دی ہے۔ تاہم ایرانی وفد کے بعض ارکان پر سفری پابندیاں برقرار رکھنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پہلے ہی نیویارک پہنچ چکے ہیں، جہاں انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی رابطہ کیا۔ ایرانی حکام کے مطابق جنرل اسمبلی کے موقع پر متعدد ممالک کے رہنماؤں اور وزرائے خارجہ کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔مسعود پزشکیان جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں ایران کا مؤقف، جنگ کے دوران ایرانی شہریوں کو پہنچنے والے نقصانات اور تہران کے سفارتی تحفظات عالمی رہنماؤں کے سامنے رکھیں گے۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم ایران کے مؤقف کو عالمی برادری تک پہنچانے اور سفارتی راستوں کے ذریعے تنازع کے خاتمے کی کوششوں کے لیے اہم ہے۔