یوکرین کے صدر زیلنسکی کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیوٹن کو روکنے اور جنگ کے پھیلاؤ کا انتباہ

یوکرین کے صدر زیلنسکی کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیوٹن کو روکنے اور جنگ کے پھیلاؤ کا انتباہ

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں روس پر مزید دباؤ ڈالنے اور جنگ کے اثرات کے عالمی سطح پر پھیلاؤ کا انتباہ کیا ہے۔

 انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو جنگ کا بنیادی محرک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ اب یوکرین کے سرحدوں سے باہر بھی اثر انداز ہو رہی ہے، جس میں شمالی کوریا کی افواج کی شمولیت اور دیگر ممالک میں پھیلاؤ شامل ہے۔ زیلنسکی نے روس کے قبضے کی کوششوں، اس کی فوجی کارروائیوں اور مالی معاونت کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر پابندیاں اور تجارتی روابط محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے روس کی تیل کی صنعت کو براہ راست ہدف بنانے کے بجائے، اس کی مالی معاونت کو محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ جنگ کو طول دینے سے روکا جا سکے۔

صدر زیلنسکی نے یوکرین کی دفاعی صنعت کے اضافی ترقیاتی اقدامات، جیسے انٹیلیجنس اور فضائی دفاعی نظام، کا بھی ذکر کیا اور عالمی برادری سے جنگ کے جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو روکنے کے لیے اقدامات کی درخواست کی۔ انہوں نے جنگ سے متاثرہ عوام کی جدوجہد اور ملک کے دفاع کی اہمیت پر زور دیا، اور خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی جنگ کو مزید خطرناک بنا سکتی ہے۔ خطاب کے آخر میں انہوں نے پیوٹن کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ جنگ کے مالی اور فوجی وسائل محدود کیے جا سکیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا یہ اجلاس 22 سے 26 ستمبر تک جاری رہے گا۔