اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اسلام آباد آکر امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور کسی بھی صورتحال میں قانون کی عمل داری یقینی بنائی جائے گی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب ممکنہ احتجاج اور مارچ کے حوالے سے حکومت کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بھرپور اقدامات کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو سڑکیں بلاک کرنے یا شہریوں کے معمولات زندگی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔وفاقی وزیر اطلاعات نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں پرامن احتجاج کا طرزِ عمل اختیار نہیں کیا، اس لیے حکومت احتجاج کے دوران امن و امان کے حوالے سے کسی قسم کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنی چاہیے، بصورت دیگر ایسے نتائج سامنے آسکتے ہیں جنہیں وہ طویل عرصے تک یاد رکھیں گے۔عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت کسی بھی پرتشدد گروہ یا ایسے مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی جو قانون ہاتھ میں لینے یا سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں۔ ان کے مطابق حکومت قانون کے مطابق کارروائی کرے گی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ گرفتاریاں مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق متعلقہ اداروں کو اطلاعات ملی تھیں کہ ان کی موجودگی سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمٰی خان اور نورین نیازی کی حراست کے معاملے پر پی ٹی آئی کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ڈان کے مطابق عظمٰی خان اور نورین نیازی کو 30 دن کے لیے حراست میں لیا گیا، جبکہ ان گرفتاریوں کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج بھی کیا گیا ہے۔مذاکرات سے متعلق سوال پر عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کی قیادت اور فیصلہ سازی کے عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کے لیے یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ پارٹی میں مذاکرات کے حوالے سے حتمی اختیار کس کے پاس ہے۔ انہوں نے بیرسٹر گوہر علی خان کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے مذاکرات کی افادیت پر تحفظات کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت کو پی ٹی آئی کی جانب سے دی جانے والی یقین دہانیوں پر اعتماد نہیں ہے اور ماضی کے واقعات کے باعث حکومت احتجاج کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کر رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ حکومت نے دارالحکومت میں سیکیورٹی سخت کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق پنجاب اور سندھ سے پولیس کی اضافی نفری بھی اسلام آباد روانہ کی جا رہی ہے تاکہ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔حکومت کی جانب سے احتجاج کے حوالے سے سخت مؤقف کے باوجود سیاسی حلقوں کی جانب سے مذاکرات پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بامقصد اور بااختیار مذاکرات کی ضرورت ہے۔