اسلام آباد: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت کی درخواستیں وکالت نامے نہ ہونے پر مسترد

اسلام آباد: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت کی درخواستیں وکالت نامے نہ ہونے پر مسترد

اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت میں تھانہ کوہسار احتجاج کیس کی سماعت کے دوران وکالت نامے موجود نہ ہونے کے باعث ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواستیں واپس کردی گئیں۔ کیس کی سماعت اے ٹی سی جج طاہر عباس سپرا نے کی۔

سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی قانونی ٹیم نے اڈیالہ جیل حکام کے خلاف بھی درخواست دائر کی۔ وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ جیل حکام نے دونوں سے وکالت ناموں پر دستخط کراکے انہیں فراہم کرنے سے انکار کیا، جس کے باعث ضمانت کی درخواستیں مکمل طور پر دائر نہیں ہوسکیں۔وکیل زینب جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ جمعہ اور ہفتہ دونوں روز اڈیالہ جیل حکام سے ملاقات کرچکی ہیں، تاہم حکام کی جانب سے کہا گیا کہ وکالت ناموں کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ اس وقت عدالتی حراست میں ہیں اور انہیں وکیل مقرر کرنے کا بنیادی قانونی حق حاصل ہے۔سماعت کے دوران جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ وکالت نامے مصدقہ کیوں نہیں ہیں۔ وکیل آصف تمبولی نے کہا کہ وکالت نامے عدالت کے پاس رکھ لیے جائیں اور ان کی تصدیق بعد میں کروا لی جائے۔جج طاہر عباس سپرا نے واضح کیا کہ دستخط کے بغیر ضمانت کی درخواست وصول نہیں کی جاسکتی۔ تاہم عدالت نے معاملے کا راستہ نکالنے کی ہدایت کرتے ہوئے جیل حکام سے وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔

عدالت نے جیل حکام کے خلاف دائر درخواست پر 24 ستمبر کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ جج نے پراسیکیوٹر سے بھی استفسار کیا کہ وکالت ناموں سے متعلق قانونی عمل کی پیروی کیوں نہیں کی جارہی۔سماعت کے دوران ڈاکٹر شیریں مزاری بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اڈیالہ جیل میں ڈی ایس پی لیگل کے کمرے سے گرفتار کیا گیا اور گرفتاری کے دوران دونوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ الزامات ڈاکٹر شیریں مزاری کی جانب سے بیان کیے گئے ہیں۔ڈاکٹر شیریں مزاری نے عدالت سے معاملے کا نوٹس لینے اور وکالت ناموں پر دستخط کراکے فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی درخواست کی۔عدالت میں ایمان مزاری کی والدہ کے علاوہ وکلا راجہ زاہد، ایمل، آصف تمبولی اور زینب جنجوعہ بھی موجود تھے۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 17 ستمبر کو سپریم کورٹ کی جانب سے ایک الگ مقدمے میں ضمانت اور سزا معطلی کا ریلیف ملنے کے بعد دوبارہ کوہسار تھانے میں درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انسداد دہشت گردی عدالت نے پولیس کی 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دونوں کو عدالتی ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا تھا۔موجودہ سماعت میں ضمانت کی درخواستوں پر کارروائی وکالت ناموں کی عدم موجودگی کے باعث آگے نہ بڑھ سکی، جبکہ اڈیالہ جیل حکام کو 24 ستمبر کو عدالت میں اپنا جواب جمع کرانے کے لیے نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔