اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے حکومت کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف سے سیاسی رہنماؤں پر مشتمل بااختیار کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے سیاسی کمیٹیاں مذاکرات کی میز پر بیٹھیں تو جاری سیاسی مسائل کے حل کی جانب پیش رفت ہوسکتی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجا ناصر عباس نے کہا کہ حکومت جب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہو، پی ٹی آئی کی جانب سے بات چیت کے لیے روازے کھلے ہیں۔ ان کے مطابق ملک کو موجودہ صورتحال سے نکالنے کے لیے سنجیدہ اور بامعنی سیاسی مذاکرات کی ضرورت ہے۔راجا ناصر عباس نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ ایسی ٹیم تشکیل دی جائے جس میں سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ بااختیار اور فیصلہ سازی کی صلاحیت رکھنے والے افراد شامل ہوں، تاکہ مذاکرات محض بات چیت تک محدود نہ رہیں بلکہ قابلِ عمل حل کی طرف بڑھ سکیں۔دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی وفاقی سطح پر رابطوں کی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق متعلقہ شخصیات سے گزشتہ رات سے رابطے جاری ہیں اور حالیہ گرفتاریوں اور دیگر واقعات کے حوالے سے پارٹی کا مؤقف بھی حکام تک پہنچا دیا گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے حکومت پر زور دیا کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتاریوں اور حراستوں سے حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں اور موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سیاسی رابطوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ان کی جماعت اسلام آباد پر کسی حملے یا ’چڑھائی‘ کا ارادہ نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ، سینیٹ اور دیگر آئینی و سیاسی فورمز پر اپنا مؤقف پیش کیا، تاہم ان کے بقول شنوائی نہ ہونے کے باعث احتجاج کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج اور مارچ کا اعلان کر رکھا ہے اور پارٹی قیادت نے حالیہ دنوں میں اس کی تیاری جاری رکھنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
تازہ پیش رفت میں مذاکرات کے لیے پی ٹی آئی کی جانب سے سیاسی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ سامنے آیا ہے، جبکہ وفاقی سطح پر رابطوں کی موجودگی کی تصدیق بھی پارٹی قیادت کی جانب سے کی گئی ہے۔ آئندہ مرحلے میں یہ رابطے باضابطہ مذاکرات میں تبدیل ہوتے ہیں یا نہیں، اس کا انحصار دونوں جانب سے ہونے والی مشاورت اور فیصلوں پر ہوگا۔