دعوت ملنے کے باوجود اجلاس میں شریک نہ ہونے والے رہنماؤں کی تفصیلات

دعوت ملنے کے باوجود اجلاس میں شریک نہ ہونے والے رہنماؤں کی تفصیلات

قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی غیر موجودگی پر سوالات اٹھے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سنی اتحاد کونسل کے 14 اراکین کو دعوت نامے جاری کیے گئے تھے، لیکن قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب سمیت کوئی رکن اجلاس میں شریک نہیں ہوا۔پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی بشیر خان ایوان میں پہنچے تھے، لیکن کچھ دیر ایوان میں رہنے کے بعد واپس چلے گئے۔ اس غیر حاضری پر اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اپنے بیان میں کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان کو بھی ایسی میٹنگز میں بلایا جانا چاہیے کیونکہ ان کے بغیر کسی میٹنگ کی اہمیت نہیں ہوتی۔محمود خان اچکزئی نے یہ بھی کہا کہ ملکی سلامتی کے لیے بلائی جانے والی میٹنگز میں ہر سیاسی جماعت کے نمائندے کی شرکت ضروری ہے، اور جماعتِ اسلامی کے نمائندے بھی شریک ہونے چاہئیں۔

اسی دوران، مجلسِ وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے بھی یہی موقف اختیار کیا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کو آن بورڈ لیے بغیر کیے جانے والے فیصلے عوامی نہیں ہو سکتے اور عوام انہیں قبول نہیں کریں گے۔یہ اجلاس ملکی سلامتی کے اہم مسائل پر غور کرنے کے لیے بلایا گیا تھا، مگر بڑی سیاسی جماعتوں کی عدم شرکت اور اہم رہنماؤں کے غیر حاضر رہنے کے باعث اس کی اہمیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔