بلغاری سیٹ ساڑھے 7 کروڑ ،عمران نے پرائیویٹ اپریزر سے قیمت 59 لاکھ لگوائی
تحائف میں جیولری سیٹ، عود کی بوتلیں، زیتون کا تیل شامل تھا،عدالت میں بیان
راولپنڈی (خصوصی رپورٹ)بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس میں چشم دید گواہ سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد احمد عدالت کے روبرو بیان ریکارڈ کراچکے ہیں۔ عدالت میں ریکارڈ کروائے گئے بیان میں سابق ملٹری سیکریٹری نے بلغاری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہ کرانے کا انکشاف کیا ہے۔ بیان میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی نے سعودی ولی عہد کی جانب سے دئیے گئے تحائف توشہ خانہ میں جمع نہ کرانے کی ہدایت کی تھی،تحائف میں جیولری سیٹ، عود کی بوتلیں، زیتون کا تیل، کھجور اور ایک کتاب شامل تھی، تحائف ملنے کے بعد بانی پی ٹی آئی نے انہیں توشہ خانہ میں جمع کرانے سے روک دیا تھا، تمام تحائف کی سرکاری پروٹوکول کے مطابق تصاویر بنائی گئیں،نیب اور ایف آئی اے کے سامنے بھی اپنا بیان ریکارڈ کراچکا ہوں،غیر ملکی دوروں میں تحائف وصولی کے وقت وزارتِ خارجہ کے نمائندے موجود ہوتے ہیں،سعودی عرب میں ملنے والے تحائف پر وزارتِ خارجہ نے وزیراعظم آفس کو تحریری طور پر آگاہ کیا۔توشہ خانہ کابینہ ڈویژن کے ماتحت ہے،سعودی عرب سے ملنے والے تحائف کی مالیت 29 لاکھ 14 ہزار 500 روپے لگائی گئی، رقم بشریٰ بی بی کو سعودی ولی عہد کی جانب سے دیئے گئے تحائف کے عوض جمع کرائی گئی، توشہ خانہ سیکشن کی طرف سے کوئی اعتراض نہیں آیا، تحائف کی مالیت کا تعین اور توشہ خانہ کے ساتھ خط و کتابت ڈپٹی ملٹری سیکرٹری نے بانی پی ٹی آئی کے حکم پر کی تھی،7 مئی 2021 سے 10 مئی 2021 تک دورہ سعودی عرب میں سابق وزیر اعظم کے ساتھ تھا۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق،بلغاری جیولری سیٹ کی اصل مالیت ساڑھے 7 کروڑ تھی، بانی پی ٹی آئی نے پرائیویٹ اپریزر سے سیٹ کی قیمت 59 لاکھ روپے لگوائی،بانی پی ٹی آئی نے صرف 29 لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے، جیولری سیٹ میں نیکلیس، بریسلیٹ، ائیر رنگز اور انگوٹھی شامل تھی۔