سیلاب کی تباہ کاریاں جاری، علی پور میں7ہلاکتیں

جلال پور پیروالا پر موٹروے کا ایک اور حصہ سیلاب میں بہہ گیا فصلیں تباہ 
بہاولنگر،ملتان (خصوصی رپورٹ )دریائے ستلج میں بہاولنگر کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب آگیا، فصلیں تباہ ہو گئیں، زمینی رابطے منقطع ہو گئے،ملتان کے قریب جلال پور پیروالا پر موٹروے ایم 5 کا ایک اور حصہ سیلابی پانی میں بہہ گیا،علی پور میں 7 متاثرین سیلابی پانی میں ڈوب کر دم توڑ گئے ۔تفصیل کے مطابق دریائی بیلٹ میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری رہیں، موضع کوٹ لنگاہ، توگیرہ اور دیگر علاقوں کے رابطے منقطع ہوگئے، دریائے سندھ میں کنڈیارو کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب آگیا، کچے کے قدیمی گائو ں بکھری کو بچانے کیلئے بنایا گیا بند توڑ دیا گیا۔کچے کے علاقوں میں تل، کپاس اور جوار کی فصلیں تباہ ہوگئیں، 50 سے زائد دیہات ڈوبنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ۔ دریائے سندھ میں کوٹری بیراج کے مقام پر پانی کی آمد میں مزید اضافہ ہوگیا۔بیراج پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار رہی، گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران 9 ہزار کیوسک کا اضافہ ہوا، سکھر بیراج پر پانی کے بہا ئو میں 62 ہزار کیوسک کمی آگئی، سیلاب سے شجاع آباد کی بستی ماڑا میں خوفناک تباہی ہوئی، متاثرین تاحال گھروں میں آباد نہیں ہو سکے۔علی پور میں 7 متاثرین سیلابی پانی میں ڈوب کر دم توڑ گئے، موضع پکا نائچ میں سیلابی پانی سے بھرے گڑھے میں ڈوب کر 3 افراد چل بسے، بستی کارچ کے 3 رہائشی راشن لیکر واپسی پر ریلے کی نذر ہوگئے۔ ادھر سندھ کے ضلع دادو میں سیلاب سے متاثرہ دیہات کی تعداد 50 ہوگئی جبکہ دادو کی تحصیل میہڑ سے آنے والا سیلابی ریلا لاڑکانہ کے سیہون بچا بند سے ٹکرا گیا ۔سیلابی ریلا ٹکرانے سے 3 دیہات اور رابطہ سڑکیں زیرِ آب گئیں، کچے کے علاقے نئوں گوٹھ میں پانی داخل ہوگیا۔ بنیادی صحت مرکز بھی پانی میں ڈوب گیا۔نوشہرو فیروز میں بھی لوپ بند میں شگاف پڑ گیا جس کے باعث بکھری کے قریبی گاں زیرِ آب آگئے