راوی میں سیلاب گائو شالہ، مالی پورہ ،سگیاں پل کے اطراف علاقے خالی
دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، آئندہ 24 گھنٹے اہم قرار ،کشمیر، گلگت بلتستان، مری اور گلیات میں شدید بارش ، کوئٹہ، قلات، لاہور، اٹک، راولپنڈی، پشاور، تھرپارکر اور ٹھٹھہ کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ، الرٹ جاری
لاہور کراچی ، اوکاڑہ ( کرائم رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک ) راوی میں سیلاب ،لاہور میں گائو شالہ، مالی پورہ ،سگیاں پل کے اطراف کے علاقے خالی کروا لئے گئے ،کراچی میں طوفانی بارش ، پختونخواہ میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ، رات گئے لاہور میں بھی بادل برس پڑے،دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں کشمیر، گلگت بلتستان، مری اور گلیات میں شدید بارش جبکہ کوئٹہ، قلات، لاہور، اٹک، راولپنڈی، پشاور، تھرپارکر اور ٹھٹھہ کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا، ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔ پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 53 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ نارنگ منڈی میں دریائے راوی بپھر گیا، جس سے پسیانوالہ، لونگ والا، جنڈیالہ، کلساں، چاند بریار وغیرہ سرحدی دیہات میں سینکڑوں ایکڑ رقبہ زیرِ آب آ گیا۔ سیلابی صورتحال کی وجہ سے بی آربی سمیت دیگر نہروں میں بھی طغیانی پائی جا رہی ہے۔ شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 36 ہزار کیوسک اور صورتحال معمول کے مطابق ہے تاہم آئندہ 24 گھنٹوں میں درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔ ممکنہ خطرے کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ، ریسکیو، سول ڈیفنس اور محکمہ صحت پوری طرح الرٹ ہیں۔دریا کے پاٹ میں آباد خانہ بدوش خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا اور ریسکیو 1122 نے دریا کنارے ایمرجنسی کیمپ قائم کر دیا جس میں لائف جیکٹس، کشتیاں، لائف لائنز، 12 ارکان پر مشتمل الرٹ ٹیم موجود ہے۔ادھر اوکاڑہ میں دریائے ستلج میں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال پر ریسکیو اینڈ فلڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔ ریسکیو ٹیموں نے اٹاری، پوران، باقر کیمہار، ہیڈ سیلمانکی، درازکے اور مہلو شیخوکا سمیت دیگر مقامات پر ریسکیو اینڈ فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیئے اور درازکے اور اٹاری کے مقام سے سیلاب میں پھنسے 165 سے زائد افراد کو سازوسامان سمیت متاثرہ علاقوں سے ریسکیو کیا جاچکا۔ قصور میں دریائے ستلج میں نچلے درجے کے سیلاب کی وجہ سے کئی علاقوں کے زمینی راستے منقطع ہوگئے اور متاثرہ دیہات میں بچوں کو سکول پہنچانے کیلئے ریسکیو 1122 نے بوٹ سروس شروع کر دی۔ اٹھارہ ہزاری میں ہیڈ تریموں کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے لگی جس سے کامرہ، منڈے سید، کھرل، کوٹلی باقر شاہ، عمرانہ جنوبی اور بستی لنگاہ کے علاقے خطرے میں پڑ گئے۔خیبر پختونخوا میں کلاؤڈ برسٹ سے بونیر سمیت دیگر اضلاع میں ہونے والی تباہی کے دوران لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش جاری ہے، صوابی میں جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں 9 میڈیکل کیمپس میں اب تک 6 ہزار 304 شہریوں کا علاج کیا جا ۔ ادھر پنجاب کے بھی مختلف شہروں میں آج شدید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیاکراچی میں طوفانی بارش، شاہراہِ فیصل سمیت شہر کی کئی سڑکیں اور گلیاں پانی میں ڈوب گئیں، نظامِ زندگی درہم برہم ہوگیا۔ کے الیکٹرک کے 470 سے زائد فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی فراہمی معطل رہی اور شہر کا 40 فیصد حصہ بجلی سے محروم ہوگیا۔ فلائٹ آپریشن بھی معطل کردیا گیا، شہر میں رین ایمرجنسی نافذ، دیواریں گرنے اور کرنٹ لگنے کے واقعات میں 4 بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق ہوگئے،گزشتہ روز کراچی میں موسلا دھار بارش ہوئی اور 12 گھنٹے کے دوران مجموعی طور پر 245 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ کورنگی میں 207، گلشنِ رومی 203، گلشنِ حدید 200، ملیر سعود آباد 182 اور جناح ایونیو میں 172 ملی میٹر بارش ہوئی جس کے باعث شہر میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، نظامِ زندگی بری طرح متاثر ہوگیا اور کئی نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے۔ سیکڑوں افراد سڑکوں پر پانی جمع ہونے کے باعث گھروں تک بروقت نہ پہنچ سکے اور بدترین ٹریفک جام ہوگیا نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بارشوں اور سیلاب سے نقصانات کی تازہ رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق 26 جون سے 19 اگست تک 707 افراد جاں بحق اور 967 زخمی ہوئے۔ خیبر پختونخوا میں 427 افراد، پنجاب 165، سندھ 29، بلوچستان 22، گلگت بلتستان 34، آزاد کشمیر 22 جبکہ اسلام آباد میں 8 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس دوران 2 ہزار 938 مکانات کو نقصان پہنچا، ایک ہزار 108 مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوئے۔علاوہ ازیں خیبر پختونخوا میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے 200 سے زائد ٹیلی کام ٹاورز متاثر ہوئے جن میں سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے 85 فیصد ٹاورز 48 گھنٹوں میں بحال کر دیئے جبکہ بونیر، سوات، شانگلہ، مانسہرہ سمیت دیگر علاقوں میں لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش کیلئے پانچویں روز بھی سرچ آپریشن جاری رہا۔ صوابی میں مزید 6 افراد کی لاشیں ملنے کے بعد اموات کی تعداد 26 ہوگئی۔