آکاش علی فرتاش
ذووالفقار علی بھٹو کو 5 جولائی 1977 کو پہلی دفعہ نظر بند کیا گیا تھا اور 29 جولائی یعنی ٹھیک چوبیس روز بعد نظربندی کو ہٹا دیا گیا تھا۔3 ستمبر 1977 کو پہلی بار گرفتار کِیا گیا اور اْنہیں 13 ستمبر 1977 کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ شنید یہ ہے کہ ضمانت کے بعد بھٹو صاحب نے ایک میٹنگ میں کہا تھا کہ " اگر کیس سے بری ہو گیا تو جنہوں نے ا?ئین توڑا ہے اْن کے خلاف ا?رٹیکل چھ لگاو?ں گا "۔ پھر تیسری بار اْنہیں 16 ستمبر 1977 میں گرفتار کیا گیا تو اْن پر قتل میں اعانت کا الزام لگایا گیا۔ یہ جنرل ضیاء الحق کی ہمت سے باہر کا کام تھا کیونکہ یہ امریکہ کی ہی پْشت پناہی تھی جو بھٹو صاحب کو صفحہ ہستی سے مِٹانا چاہتا تھا کیونکہ امریکہ بھٹو صاحب کی ذہانت سے خوب واقف بھی تھا اور خوفزدہ بھی۔ 24 اکتوبر 1977 کو مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی اور اور 18 مارچ 1977کو سزا ہوئی یعنی کے 7 ماہ میں سزا سْنا دی گئی جبکہ ماضی میں جھانکیں تو پاکستان میں ایسے کیسز بھی ہیں جن کی سالہا سال تاریخیں ہی پرتی رہی ہیں کئی کیسز کی تو باری ا?نے میں ہی ا?دھی زندگی گزر جایا کرتی ہے۔ افسوس صد افسوس کی بات تو یہ ہے کہ 18 دسمبر 1978 کو مقدمہ سپریم کورٹ میں گیا ، 23 دسمبر 1978 کو سپریم کورٹ نے 4 روز میں سماعت مکمل کی ، 6 فروری 1979 کو سپریم کورٹ نے سزا کو برقرار ہی رکھا۔ 24 فروری 1979 کو سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل دائر کی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 24 مارچ 1979 کو سپریم کورٹ نے نظر ثانی کی اپیل بھی مسترد کر دی۔4 اپریل 1979 کے دن دنیا کے بریلینٹ لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔میری سوچ کے مطابق اْس غیر منصفانہ پھانسی کے نتیجے میں ہر 4 اپریل کو ملک پاکستان میں یوم سیاہ منانا چاہیے۔مجھے یہ سوال جھنجھوڑتا ہے کہ اعانت کے الزام میں بھٹو صاحب کو تو پھانسی کے تختہ پر چڑھا دیا گیا لیکن اصل ملزم کہاں اور کون تھا جس نے قتل کیا اور کیا اْسے بھی پھانسی دی گئی؟ خیر یہ وضاحت کافی ہے کہ جس ملک میں وزیراعظم کو انصاف نہیں مِل سکا وہاں عام ا?دمی کو انصاف کیسے مِل سکتا ہے؟ذوالفقار علی بھٹو واحد لیڈر تھے جو عوام دوست تھے وہ طبقاتی نظریات کی بجائے اپنی نظر ہمیشہ پاکستان اور پاکستان کے عوام کے مفادات پہ مرکوز رکھتے تھے۔" محترم بھٹو صاحب نے ایک وقت میں سٹیج پہ کھڑے اپنی ایک تقریر میں عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے واضح طور پہ کہا تھا۔ "ذوالفقار علی بھٹو ایک نہیں ، دو ذوالفقار علی بھٹو ہیں ایک جو یہاں کھڑا ہے دوسرے ا?پ ہر ایک ا?پ ہو۔"پانچ جولائی 1977 کو ا?رمی چیف جنرنل ضیاء الحق نے نہ صرف مارشل لاء نافذ کر کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کی بلکہ اْنہیں قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کر کے نظر بند بھی کِیا گیا۔ اِسی روز 5 جولائی 1977 کو لاہور، رائیل پارک سے شاعر، ادیب ، کالم نگار نزو علی فرتاش کو سہ پہر 4 بجے کے قریب گرفتار کر کے سیالکوٹ قلعہ اور بعد ازاں سیالکوٹ جیل میں منتقل کیا گیا کیونکہ جنرل ضیاء الحق کو یہ خوف تھا کہ نزو علی فرتاش اپنے قلم کی طاقت سے مارشل لاء کی مخالفت اور بھٹو صاحب کے حق میں اپنی ا?واز بلند کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا ، یاد رکھئے نزو علی فرتاش کی رفاقت ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ 1967 سے تھی۔ جنرنل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے 11 سال کے جبری اقتدار میں نزو علی فرتاش کئی بار قلعہ اور جیل کی صعبتوں سے گزارے گئے اِس دوران زیڈ اے قدوسی بھی نزو علی فرتاش کے ساتھ گرفتار ہوتے رہے کئی بار حبیب جالب اور نزو علی فرتاش کو ایک ساتھ گرفتار کیا گیا جبکہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو نظر بند کِیا گیا تو اْس وقت بھی نزو علی فرتاش کی گرفتاری عمل میں ا?ئی اور اْنہیں پھر سے لاہور سے گرفتار کر کے سیالکوٹ قلعہ میں رکھا گیا اور پھر سیالکوٹ جیل میں بھیج دیا گیا۔ یہ پہلا مارشل لاء تھا جس میں 5 جولائی 1977 کے بعد تقریباً 400 صحافیوں کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ملک کے اْس لیڈر کو پھانسی کے تختہ پہ چڑھا دینا جس نے غریب ، مزدور ، مظلوم طبقہ کے لئے وہ اقدام کئے جو ا?ج تک کسی بھی سیاسی لیڈر نے نہیں کئے اور نہ ابھی تک کوئی سیاسی لیڈر اْس طرح کے اقدام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بھٹو صاحب ایک لیڈر تو تھے لیکن ایک ایسے نظرییکے پابند بھی تھے جنہوں نے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی چاشنی کے لئے ہمیشہ جدوجہد جاری و ساری رکھی۔ اْنہوں نے ہمیشہ پاکستان کی ترقی اور عوام کے مفادات کے لئے فیصلے کئے ، ملک کو دفاعی طور پہ ایٹمی پروگرام دے کر ملک پہ حقیقی احسان ذوالفقار علی بھٹو کا ہی ہے۔بھٹو صاحب کی بہادری کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اْنہیں پہلے سے ہی معلوم تھا کہ مارشل لاء لگا کر کیا ہونے والا ہے اس لئے کے مارشل لاء سے پہلے ہی اْنہوں نے اپنی تقریر میں کہہ دیا تھا "میں عوامی شخص ہوں اور عوام کے ساتھ ہی رہوں گا" اور ایک تقریر میں یہ بھی کہہ دیا تھا "میں پاکستان کے لئے جان دوں گا ، میں پاکستان کے لئے ہر طرح کی قربانی دوں گا" تقاریر کے یہ جملے ظاہر کرتے ہیں، بھٹو صاحب جانتے تھے کہ اْنہیں پھانسی دی جائے گی اور اْن کے ساتھ سفاکانہ سلوک کیا جائے گا جبکہ بھٹو صاحب نے ایک تقریر میں چیخ چیخ کر یہ بھی کہا تھا "میں اقتدار غریبوں کے لئے چاہتا تھا ، میں اقتدار عوام کے لئے چاہتا تھا" امریکہ جانتا تھا بھٹو صاحب چین ، روس اور تمام مسلم ممالک کے ساتھ مِل کر جو اتحاد بنانے جا رہے ہیں وہ امریکہ کے لئے ناقابلِ برداشت ہو سکتا تھا کیونکہ امریکہ اقوام متحدہ بنا کر خود کو دنیا میں سرِ فہرست رکھنا چاہتا تھا اور بھٹو صاحب اْس کے بالمقابل پاکستان اور مسلم ممالک اتحاد کو مظبوط کر کے تمام مسلم ممالک کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے کا پختہ ارادہ رکھتے تھے اور دوسرا بڑا خوف امریکہ کو یہ تھا کہ اس اتحاد کے بعد ورلڈ بینک پاکستان میں بنا دیا جائے گا۔واحد ذوالفقار علی بھٹو ہی وہ لیڈر تھے جنہوں نے مزدوروں ، محنت کشوں اور خواتین کے حقوق کے لئے ہمیشہ جدوجہد کی ?اس جدوجہد کی رکاوٹ بننے کے لئے اْن کے راستے میں اقوام متحدہ ہو یا کوئی بھی اْنہوں نے کسی بھی صورت کوئی کمپرومائز نہیں کِیا ہمیشہ اول ترجیح پاکستان کو دی پاکستان کی عوام کو دی۔یہی وہ وجوہات تھیں جنہوں نے بھٹو صاحب کو تختہ دار تک پہنچایا لیکن سیاست کی دنیا میں ا?ج بھی اگر کسی لیڈر کو ذہانت کی بنا پر پہچانا جاتا ہے تو وہ صرف ذوالفقار علی بھٹو ہیں اِس لئے کہ وہ حقیقی عوام دوست ، انسان دوست اور درد مند سیاست دان تھے۔ یاد رکھئے ایسے لیڈر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور یہی وہ لیڈر ہوتے ہیں جو صدیوں تک یاد رہا کرتے ہیں بہر حال سوچئے گا ضرور کہ درحقیقت " بھٹو کی پھانسی ، پاکستان کی معیشت کی پھانسی تھی"۔