سمگلنگ اور پاکستان کی معیشت پر اس کے اثرات

چودھری خادم حسین 
سمگلنگ ایک ایسا ناسور ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے کئی ممالک کے لیے معاشی تباہی کا سبب بنا ہوا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ خطرہ کئی گنا زیادہ ہے کیونکہ ہماری معیشت پہلے ہی قرضوں کے بوجھ، تجارتی خسارے، توانائی کے بحران اور پالیسیوں کی غیر تسلسل کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں سمگلنگ ایک خاموش قاتل کی طرح قومی خزانے کو کھوکھلا کرتی جا رہی ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت ایسی ہے کہ یہ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے جڑا ہے، دوسری طرف افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ سرحدیں رکھتا ہے، ایران اور بھارت جیسے بڑے ہمسائے بھی اس کے ساتھ ہیں، جبکہ چین کے ساتھ بھی تجارتی راستے موجود ہیں۔ یہی جغرافیائی پوزیشن پاکستان کو ایک اہم تجارتی گزرگاہ تو بناتی ہے مگر بدقسمتی سے یہی حیثیت اسے اسمگلنگ کا سب سے بڑا شکار بھی بنا دیتی ہے۔ ایران سے پیٹرولیم مصنوعات، افغانستان سے ٹائرز، کپڑا، چینی، چائے، ادویات اور دیگر کنزیومر پراڈکٹس، سمندر کے راستے الیکٹرانکس اور دیگر غیرقانونی سامان، سب کچھ پاکستان کی مارکیٹ میں آ رہا ہے اور یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ اس کا نقصان صرف یہ نہیں کہ حکومت کو محصولات نہیں ملتے بلکہ اس سے پاکستان کی مقامی صنعتیں تباہ ہو رہی ہیں، روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں، غیر معیاری اور مضر صحت اشیاء￿  عام ہو رہی ہیں اور قانون کی حکمرانی کمزور پڑ رہی ہے۔سمگلنگ کی تاریخ پاکستان میں اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ اس ملک کی۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہی اس عمل کا آغاز ہوا۔ ابتدا میں زیادہ تر چائے، کپڑا اور قیمتی دھاتوں کی سمگلنگ ہوا کرتی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دائرہ وسیع ہوتا گیا اور آج یہ درجنوں صنعتوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں ایک مثبت مثال سامنے آئی جب ایران سے تین ماہ کے کریڈٹ پر پیٹرولیم مصنوعات خریدی گئیں اور انہیں بحری جہازوں کے ذریعے کراچی لا کر ریفائنری میں پروسیس کرکے قانونی انداز میں مارکیٹ میں فراہم کیا گیا۔ اس سے ایک طرف صارفین کو معیاری اور سستا ایندھن ملا، دوسری طرف حکومت کو ٹیکس بھی حاصل ہوا اور معیشت کو سہارا ملا۔ لیکن بعد کے ادوار میں جب ایسی پالیسیوں پر عمل نہ ہوا تو دوبارہ غیرقانونی طریقے سے ایران کا ڈیزل اور پیٹرول اسمگل ہونا شروع ہوا جس نے قومی خزانے کو سالانہ سیکڑوں ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔ پاکستان کو سمگلنگ کی وجہ سے سالانہ 600 سے 900 ارب روپے تک کا نقصان ہو رہا ہے۔ یہ رقم اتنی بڑی ہے کہ اگر یہ بچا لی جائے تو پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کی ضرورت نہ پڑے، سرکاری ہسپتال بہتر ہو جائیں، تعلیمی اداروں کو جدید سہولیات مل جائیں اور ملک کے بنیادی ڈھانچے میں انقلابی تبدیلی آ جائے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری سرحدیں اتنی کمزور اور نگرانی کا نظام اتنا ناقص ہے کہ اسمگلر آسانی سے اپنا کام کر لیتے ہیں۔ اس میں صرف چھوٹے موٹے گروہ شامل نہیں بلکہ بعض اوقات بااثر سیاسی عناصر اور مافیا کی سرپرستی بھی حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رینجرز یا ایف سی جیسے اداروں پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اصل طاقتور ہاتھ وہ ہیں جو پردے کے پیچھے اس مکروہ دھندے کو چلاتے ہیں۔سمگلنگ صرف حکومت کو ریونیو سے محروم نہیں کرتی بلکہ یہ مقامی صنعتوں کے لیے موت کا پروانہ بن جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایران سے ڈیزل اور پیٹرول بغیر ٹیکس کے آ کر مارکیٹ میں سستا فروخت ہوگا تو مقامی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں قانونی نرخ پر مقابلہ نہیں کر سکیں گی۔ اسی طرح افغانستان سے اسمگل ہو کر آنے والے سستے ٹائر جب مارکیٹ میں آتے ہیں تو قانونی درآمد کنندگان کے ٹائر بکنا بند ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کی قیمت زیادہ ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قانونی کاروبار تباہ ہو جاتا ہے اور حکومت کو ڈیوٹی بھی نہیں ملتی۔ یہی حال صابن، چپل، گریس، ڈامر اور کپڑے جیسی کئی مصنوعات کا ہے جو سرحدوں سے غیرقانونی طریقے سے آ کر مارکیٹ میں قانونی مصنوعات کو پیچھے دھکیل دیتی ہیں۔عوام پر اس کے اثرات بھی بہت خطرناک ہیں۔ جب پٹرول میں ملاوٹ ہوتی ہے تو گاڑیوں کے انجن خراب ہوتے ہیں، ایندھن زیادہ خرچ ہوتا ہے اور فضائی آلودگی بڑھتی ہے۔ اسی طرح جب غیر معیاری صابن، دوائیں یا دیگر اشیاء￿  مارکیٹ میں آتی ہیں تو عوام کی صحت اور زندگی داؤ پر لگ جاتی ہے۔ صارف بظاہر یہ سمجھتا ہے کہ اسے سستا مال مل رہا ہے لیکن حقیقت میں وہ اپنے ہی مستقبل کو خطرے میں ڈال رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں اسمگلنگ کو صرف مالیاتی جرم نہیں سمجھا جاتا بلکہ قومی سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔پاکستان میں ڈیلرز اور پمپ مالکان کی مجبوری بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جب ڈیلر کمیشن بہت کم ہوتا ہے تو وہ غیرقانونی ذرائع اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ جنرل مشرف کے دور میں جب ڈیزل 62 روپے فی لیٹر تھا تو ڈیلر کمیشن 3 روپے فی لیٹر مقرر تھا جس سے پمپ مالکان کے اخراجات پورے ہو جاتے تھے اور وہ ملاوٹ نہیں کرتے تھے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ کمیشن نہ ہونے کے برابر ہے، اخراجات بڑھ گئے ہیں، بجلی، گیس اور عملے کی لاگت میں اضافہ ہو گیا ہے، ایسے میں وہ لوگ بچنے کے لیے غیر قانونی ذرائع تلاش کرتے ہیں۔ اگر حکومت کمیشن میں اضافہ کر دے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پابند کرے کہ وہ ڈیلرز کے ساتھ انصاف کریں تو یہ مسئلہ کافی حد تک کم ہو سکتا ہے۔سمگلنگ کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ یہ ریاستی اداروں کی ساکھ کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جب عام شہری دیکھتا ہے کہ اس کے ارد گرد غیرقانونی مال کھلے عام فروخت ہو رہا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ حکومت یا تو ناکام ہے یا جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔ یہ رویہ قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتا ہے اور عوام کا اعتماد اداروں پر سے اٹھ جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ خود بھی قانون شکنی کو برا نہیں سمجھتے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر جرم ہو رہا ہے اور کوئی نہیں پکڑ رہا تو چھوٹے پیمانے پر کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ یہ سوچ پورے معاشرے کو کرپشن اور بدعنوانی کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔ سب سے پہلے تو سرحدوں پر سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔ جدید ٹیکنالوجی جیسے ڈرون، سی سی ٹی وی کیمرے، اسکینرز اور ٹریکنگ سسٹم استعمال کیے جائیں۔ اسمگلرز کے نیٹ ورک کی انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کی جائیں اور ان کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا جائے۔ صرف چھوٹے ڈیلرز کو پکڑنا کافی نہیں بلکہ اصل سرپرستوں تک پہنچنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں آگاہی پیدا کی جائے کہ وہ سستے مگر غیرقانونی سامان کے نقصان کو سمجھیں۔حکومت کو چاہیے کہ ایران کے ساتھ دوبارہ اس طرز کا معاہدہ کرے جیسا جنرل مشرف نے کیا تھا تاکہ قانونی طور پر پیٹرولیم مصنوعات لائی جا سکیں۔ اسی طرح افغانستان کے ساتھ بھی تجارتی معاہدے بہتر بنائے جائیں تاکہ قانونی تجارت کو فروغ ملے اور سمگلنگ کا راستہ بند ہو۔ اگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ مقامی کرنسی میں تجارت کی جائے تو ڈالر پر انحصار کم ہوگا اور سمگلنگ کی ضرورت بھی کم ہو جائے گی۔ حکومت مقامی صنعتوں کو سبسڈی اور سہولتیں دے تاکہ وہ سستے غیرقانونی مال کے مقابلے میں کھڑی ہو سکیں۔ جب مقامی مصنوعات کی قیمت اور معیار بہتر ہوگا تو عوام انہیں خریدنے پر آمادہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ ڈیلرز کو منصفانہ کمیشن دیا جائے تاکہ وہ غیر قانونی راستے اختیار نہ کریں۔عالمی سطح پر بھی پاکستان کو اپنا مؤقف مضبوطی سے پیش کرنا چاہیے۔ امریکہ اور دیگر طاقتیں ایران سے تجارت پر اعتراض کرتی ہیں لیکن بھارت کو کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ عالمی دباؤ کو پس پشت ڈال کر اپنے مفاد میں فیصلے کریں۔ اگر اقوام متحدہ ایران پر امریکی پابندیوں کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے تو پاکستان بھی اس سے فائدہ اٹھائے۔ماحولیاتی پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ غیر معیاری ایندھن جلنے سے فضائی آلودگی بڑھتی ہے، گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں میں زہریلے مادے شامل ہو جاتے ہیں اور یہ شہریوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ اسی طرح غیر معیاری صابن اور کیمیکلز نہ صرف انسانی صحت بلکہ ماحول کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ لہٰذا سمگلنگ کو روکنا صرف معیشت کے لیے ہی نہیں بلکہ ماحولیات اور عوامی صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔
اگر حکومت پوری دیانتداری کے ساتھ کریک ڈاؤن کرے تو روزانہ کے حساب سے اربوں روپے قومی خزانے میں جا سکتے ہیں۔  اگر ایران اور افغانستان کی سرحدوں پر مکمل سختی کر دی جائے تو سالانہ کم از کم 600 ارب روپے بچائے جا سکتے ہیں۔ یہ وہ رقم ہے جس سے پاکستان کو قرضوں کی قطعی ضرورت نہ پڑے۔نتیجہ یہی ہے کہ سمگلنگ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک زہرِ قاتل ہے۔ یہ مسئلہ صرف اقتصادی نہیں بلکہ سماجی، سیاسی اور اخلاقی بھی ہے۔ جب تک ہم سرحدوں پر سخت نگرانی، اداروں کی شفافیت، ڈیلرز کے لیے انصاف، عوامی شعور اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ مضبوط تجارتی معاہدوں پر عمل نہیں کریں گے، تب تک یہ ناسور بڑھتا ہی رہے گا۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں یہ پاکستان کی معیشت کو مکمل طور پر مفلوج کر سکتا ہے۔ لیکن اگر حکومت، ادارے، تاجر برادری اور عوام مل کر سنجیدگی سے قدم اٹھائیں تو یہ چیلنج قابو میں آ سکتا ہے اور پاکستان ایک خودمختار، مستحکم اور ترقی یافتہ ملک کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ یہی وقت ہے کہ ہم فیصلے کریں، ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔"