ہم ابھی افغانستان سے بات کر رہے ہیں اور اسے واپس چاہتے ہیں ‘ فوری اور ابھی، اگر وہ واپس نہیں کرتے تو پھر آپ جان جائیں گے میں کیا کروں گا:صحافیوں سے گفتگو
افغانستان کی ایک انچ زمین پر بھی معاہدہ ممکن نہیںکچھ لوگ سیاسی ڈیل سے ائیر بیس واپس لینا چاہتے ہیں، افغانستان کی سرزمین پر کسی معاہدے کی ہمیں ضرورت نہیں :سربراہ وزارت دفاع
واشنگٹن ، کابل (آن لائن‘آئی این پی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کو دھمکی دیتے ہوئے بگرام ائیربیس واپس کرنے کا مطالبہ کردیاجو طالبان نے مسترد کردیا۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں افغانستان کو دھمکی دی ہے،مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان بگرام ایئر بیس امریکا کو واپس کرے،اگرمیری بات نہ مانی تو اس کیساتھ بہت برا ہوگا،رپورٹر نے امریکی صدر سے سوال کیا کہ کیا آپ بگرام واپس لینے کے لیے زمینی فوجوں کے استعمال کے امکان کو مسترد کر رہے ہیں؟، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ ہم ابھی افغانستان سے بات کر رہے ہیں اور اسے واپس چاہتے ہیں — فوراً اور ابھی،اور اگر وہ واپس نہیں کرتے تو پھر آپ جان جائیں گے کہ میں کیا کروں گا۔
افغانستان کی طالبان حکومت نے بگرام ایئر بیس کو دوبارہ حاصل کرنے کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دھمکیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے اگر امریکہ کو ہمارے اڈے واپس چاہئیں تو ہم اس سے اگلے 20 سال مزید لڑنے کے لئے تیار ہیں، بیرونی فوج کی موجودگی بحال کرنے کی کسی بھی کوشش کی صورت میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ افغان وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد نے میڈیا سے گفتگو میں اس اسٹریٹجک ایئربیس کو دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا جواب یہ ہے کہ اگر آپ واپس آنا اور اڈے لینا چاہتے ہیں تو ہم آپ کے خلاف اگلے 20 سال تک لڑنے کے لئے تیار ہیں‘سربراہ وزارت دفاع فصیح الدین فطرت نے کہا ہے فغانستان کی ایک انچ زمین پر بھی معاہدہ ممکن نہیں جبکہ کچھ لوگ سیاسی ڈیل سے بگرام ائیر بیس واپس لینا چاہتے ہیں ۔ افغانستان کی زمین پر کسی معاہدے کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔