عزیر بلوچ کو غیرقانونی اسلحہ برآمدی اور سہولت کاری کے مقدمے سے بریت کی سزا مکمل

عزیر بلوچ کو غیرقانونی اسلحہ برآمدی اور سہولت کاری کے مقدمے سے بریت کی سزا مکمل

کراچی میں جوڈیشل مجسٹریٹ غربی نے غیر قانونی اسلحہ کی برآمدگی اور سہولت کاری کے مقدمے میں گینگ وار کے سرغنہ عزیر جان بلوچ کو باعزت بری کر دیا ہے۔

 عدالت نے پروسیکیوشن کی جانب سے مقدمے میں ثبوت پیش کرنے میں ناکامی پر ملزم کو عدم شواہد کی بنیاد پر بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔عدالت کے فیصلے کے مطابق، عزیر بلوچ کے خلاف کسی قسم کے ثبوت موجود نہیں تھے، اور وکیلِ ملزم حیدر فاروق جتوئی نے بھی موقف اپنایا کہ عزیر بلوچ بے قصور ہے اور اسے مقدمے سے بری کیا جائے۔پولیس کے مطابق، عبد الغفار بگٹی نے اقبالی بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ عزیر بلوچ اور نور محمد عرف بابا لاڈلہ نے اسلحہ کی ترسیل میں سہولت فراہم کی، جس کے نتیجے میں عزیر بلوچ کے خلاف دفعہ 109 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، اور اسلحہ برآمد بھی ہوا تھا۔ یہ مقدمات 2012 میں تھانہ سی آئی ڈی میں درج کیے گئے تھے۔