عمران خان و دیگر کیخلاف مقدمے میں پیش کی گئی کہانی مشکوک تھی، بریت کیس کا فیصلہ جاری

عمران خان و دیگر کیخلاف مقدمے میں پیش کی گئی کہانی مشکوک تھی، بریت کیس کا فیصلہ جاری

ویب ڈیسک:ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے تھانہ آبپارہ میں ایمپلی فائر ایکٹ اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر درج مقدمے میں عمران خان، فیصل واوڈا، شیخ رشید، صداقت عباسی سمیت دیگر ملزمان کی بریت کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ یاسر محمود چوہدری نے تحریری فیصلے میں کہا کہ مقدمے میں پیش کی گئی کہانی مشکوک تھی اور پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے الزامات کو ثابت نہیں کیا جا سکا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ مقدمے کا ٹرائل چلایا جاتا تب بھی ملزمان کو سزا ہونے کے امکانات نہ تھے۔

عدالت کی اہم نکات:
پولیس پر حملہ:
پراسیکیوشن نے دعویٰ کیا تھا کہ 1000 سے 1200 افراد نے پولیس پر حملہ کیا تھا، لیکن عدالت نے دلچسپ بات نوٹ کی کہ اس حملے میں ایک بھی پولیس اہلکار زخمی نہیں ہوا۔
مؤقف میں شکوک:
تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ پراسیکیوشن کی کہانی میں شکوک و شبہات پائے گئے اور مدعی مقدمہ کے الزامات کو سچ ثابت نہیں کیا جا سکا۔
بریت کا حکم:
عدالت نے تمام ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا، جن میں عمران خان، فیصل واوڈا، شیخ رشید، فواد چوہدری، اور فردوس شمیم شامل ہیں۔شہزاد وسیم اور اسد قیصر کو بھی بری کیا جا چکا تھا، 24 فروری 2024 کو۔عدالت نے ملزمان کے ضمانتی مچلکوں کو واپس کرنے کا بھی حکم دیا۔
مقدمے کی تفصیل:
یہ مقدمہ اگست 2022 میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر درج کیا گیا تھا، جس میں سیاسی رہنماؤں پر الزام تھا کہ انہوں نے اجتماع کی اجازت کے بغیر احتجاج کیا تھا۔ عدالت نے حکومتی الزامات کو ثابت نہ ہونے کے باعث ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔

فیصلے کا اثر:
عدالت کے اس فیصلے کے بعد، عمران خان اور دیگر سیاسی رہنماؤں کو تھانہ آبپارہ کے اس مقدمے میں بری کر دیا گیا ہے، اور اگر وہ کسی اور مقدمے میں گرفتار نہیں ہیں تو انہیں رہا کر دیا جائے گا۔