کراچی میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے لیاری گینگ وار کے سربراہ عزیر بلوچ کے خلاف غیر قانونی اسلحہ کی برآمدگی اور سہولت کاری سے متعلق دو مقدمات کا فیصلہ موخر کردیا ہے۔
عدالت نے فیصلہ رواں ماہ کے آخر میں سنانے کا اعلان کیا ہے۔پولیس کے مطابق ملزمان شمس الدین اور عبدالغفار بگٹی نے اپنے اقبالی بیان میں انکشاف کیا تھا کہ عزیر بلوچ اور نور محمد عرف بابا لاڈلہ نے انہیں اسلحہ کی ترسیل میں سہولت فراہم کی۔ اسی بیان کی بنیاد پر عزیر بلوچ کے خلاف دفعہ 109 تعزیراتِ پاکستان کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے بارود اور بڑی تعداد میں گولیاں بھی برآمد کی گئی تھیں۔ یہ مقدمات 2012ء میں تھانہ سی آئی ڈی میں درج کیے گئے تھے، جن کی سماعت برسوں بعد اپنے حتمی مراحل میں داخل ہوئی ہے۔واضح رہے کہ عزیر بلوچ کے خلاف کراچی کی مختلف عدالتوں میں سنگین نوعیت کے قتل، اقدامِ قتل، بھتہ خوری اور دیگر جرائم سے متعلق درجنوں مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔