خیبرپختونخوا پولیس کو فراہم کی جانے والی بلٹ پروف گاڑیوں کے پیچھے چھپی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔
یہ فیصلہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت ایک اجلاس میں کیا گیا تھا، جس میں فیڈرل کانسٹیبلری اور صوبائی پولیس حکام نے وزیر داخلہ کو صوبے میں افسران کو درپیش سیکورٹی خطرات سے آگاہ کیا۔ اس اجلاس میں، پولیس اور فیڈرل کانسٹیبلری نے مطالبہ کیا کہ انہیں بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی جائیں تاکہ افسران کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق، فیڈرل کانسٹیبلری کو جنوبی اضلاع کے لیے 10 بلٹ پروف گاڑیاں درکار تھیں، جن کے حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے یقین دہانی کرائی کہ یہ گاڑیاں فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ، خیبرپختونخوا پولیس کو 3 بلٹ پروف گاڑیاں اور فیڈرل کانسٹیبلری کو 2 گاڑیاں ملنی تھیں۔ اس سے قبل، فیڈرل کانسٹیبلری کو 10 ماہ قبل بھی 3 بلٹ پروف گاڑیاں دی گئی تھیں۔
واضح رہے کہ محسن نقوی نے چند روز قبل خیبرپختونخوا پولیس کو 3 بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی تھیں، مگر بعد میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی وزیر کی جانب سے دی گئی ان گاڑیوں کو واپس کرنے کی ہدایت جاری کی۔ اس اقدام سے یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا گاڑیاں پھر سے واپس لی جا رہی ہیں یا ان کی تقسیم میں کوئی دیگر مسئلہ درپیش ہے۔ اس پورے معاملے میں، سیکورٹی کے حوالے سے حکومتی حکمت عملی اور سیاسی فیصلوں کے پیچھے کیا محرکات ہیں، یہ بھی زیر غور ہے۔