فیکٹری ایریا پولیس اہلکاروں کا شہری عرفان پر بہیمانہ تشدد، موبائل ویڈیو منظر عام پر، پولیس مؤقف دینے سے انکاری

فیکٹری ایریا پولیس اہلکاروں کا شہری عرفان پر بہیمانہ تشدد، موبائل ویڈیو منظر عام پر، پولیس مؤقف دینے سے انکاری

تھانہ فیکٹری ایریا لاہور کے پولیس اہلکاروں کی جانب سے ایک شہری پر مبینہ تشدد کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی ہے، جس میں پولیس کی غنڈہ گردی اور غیر انسانی سلوک کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ متاثرہ شخص کی شناخت عرفان کے نام سے ہوئی ہے۔

 تشدد کی ویڈیو منظر عام پر
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ:

ایک پولیس اہلکار عرفان نامی شہری کو پکڑتا ہے،
اچانک شدید غصے میں آ کر اسے دیوار اور دکان کے شٹر پر دے مارتا ہے،
اردگرد موجود راہگیر اس واقعے کو موبائل فون کے ذریعے ریکارڈ کرتے ہیں۔
ویڈیو میں پولیس اہلکار کی جارحانہ حرکتیں واضح ہیں جبکہ متاثرہ شہری مکمل طور پر مدافعت سے محروم نظر آتا ہے۔

 پولیس کا موقف: خاموشی اور گریز
واقعے کے بعد جب میڈیا نے پولیس سے مؤقف لینے کی کوشش کی تو:

تھانہ فیکٹری ایریا کے ایس ایچ او نے اپنا نمبر بند کر دیا،
تھانے میں موجود اہلکاروں نے جواب دینے سے صاف انکار کر دیا،
ایک اہلکار نے کہا:

"ہمیں اعلیٰ افسران نے بات کرنے سے منع کیا ہے، آپ ان سے رابطہ کریں۔"
اہلکاروں نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ:

شہری عرفان کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہے یا نہیں؟
کیا وہ کسی کیس میں مطلوب تھا؟
 گھر پر چھاپہ اور اہلِ خانہ پر بھی تشدد؟
عرفان کے اہل خانہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ:

"پولیس اہلکار بغیر کسی وجہ کے عرفان کو حراست میں لینے گھر میں گھس آئے، خواتین سے بدتمیزی اور دھکے دیے، اور زبردستی عرفان کو ساتھ لے گئے۔"
اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ عرفان کا کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں ہے اور وہ ایک مزدور پیشہ شہری ہے۔

 اہم سوالات جو جواب طلب ہیں:
کیا عرفان کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہے؟
اگر گرفتاری قانونی تھی تو تشدد کیوں کیا گیا؟
اہل خانہ کے ساتھ بدسلوکی پر کارروائی کب ہوگی؟
پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کب ہوگا؟
 عوامی ردعمل اور مطالبات
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد شہری حلقوں میں پولیس کے رویے پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر  کے ٹرینڈ کے تحت مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ:

تشدد میں ملوث اہلکاروں کو فوری معطل کر کے انکوائری شروع کی جائے
متاثرہ شہری اور اہلِ خانہ کو تحفظ اور قانونی معاونت فراہم کی جائے
 نتیجہ: پولیس ریفارمز کی ضرورت مزید نمایاں
یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پولیس کے رویے اور اختیارات کے غلط استعمال پر سخت نگرانی اور جوابدہی کا نظام ضروری ہے، تاکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔