راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے 26 نومبر کے احتجاج کیس میں پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کے چوتھی بار ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں۔
عدالت کے جج امجد علی شاہ نے علیمہ خان کے خلاف کیس کی سماعت کی اور حکم دیا کہ انہیں گرفتار کرکے 24 اکتوبر کو پیش کیا جائے۔ علاوہ ازیں، عدالت نے علیمہ خان کے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے بھی ضبط کرنے کا حکم دیا، اور سٹی پولیس آفیسر کو وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کا ہدایت دی۔عدالت نے علیمہ خان کے ضامن محمد شریف کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا ہے، کیونکہ علیمہ خان کی ضمانت گارنٹی انہی کے ذریعے دی گئی تھی۔پولیس کی رپورٹ پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا کیونکہ رپورٹ بوگس اور من گھڑت تھی۔
اس کے ساتھ ہی، عدالت نے ایس پی راول محمد سعد اور ڈی ایس پی وارث خان نعیم کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا، اور ان دونوں پولیس افسران کو 24 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہے۔عدالت نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر علیمہ خان روپوش ہیں تو ان کی میڈیا پر موجود ٹاک شو اور رپورٹس کس طرح نشر ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، عدالت نے چار گاڑیوں کے 85 لاکھ روپے کے شورٹی بانڈز بھی ضبط کرنے کے احکامات دیئے اور مقدمے کی سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔