سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
یہ وہی طالبان تھے جوکبھی اسلامی اخوت کے نام پرپاکستان کی قربت کے قائل تھے،مگراب اپنے سیاسی مفادکیلئے خودمختار پالیسی کاعلم اٹھائے ہوئے ہیں۔طالبان نے انڈیاکویہ باور کرانے کی بھرپورکوشش کی کہ ان کی خارجہ پالیسی کسی تیسرے ملک کی تابع نہیں۔ یہ تیسراملک واضح طورپرپاکستان تھا۔دونوں ممالک اپنے اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے ایک دوسرے کے گلے لگنے کیلئے تیارہوگئے اور ہی وہ مقام ہے جہاں انڈیا نے موقع دیکھااورکابل کے دروازے پراحترام کے لباس میں مفادکاپیغام لے کرپہنچ گیا۔جبکہ قرآن نے واضح فرمایاہے :اے ایمان والو!احتیاط اختیارکرو۔لیکن طالبان جوخودکواسلام کاسفیر کہتے ہیں،ابیہی دھوکہ اورمفادکی سیاست دونوں کی سفارت کاری کامحوربن چکی ہے۔
اگریادہوتوجون2012میں طالبان نے ایک غیرمتوقع بیان میں انڈیا کی تعریف کی،کہ اس نیافغانستان میں امریکی فوجی کردارکو مستردکیا۔یہ تعریف محض ایک بیان نہیں تھی،بلکہ دہلی کے دروازے پرنرم دستک تھی۔یہ وہ وقت تھاجب امریکااپنے انخلا کی منصوبہ بندی کر رہا تھا،اورانڈیاسے چاہتاتھا کہ وہ افغان سکیورٹی میں زیادہ فعال کرداراداکرے۔ طالبان نے چالاکی سے انڈیاکوغیرجانبدارملک کے طور پرسراہا،اورکہاکہ امریکاکوخوش کرنے کیلئے انڈیاکاتباہی میں ملوث ہوناغیرمنطقی ہوگا۔یہ سفارتکاری کاپہلا بیج تھاجس کی فصل آج نئی دہلی میں لہلہارہی ہے۔راقم نے طالبان کے اس بیان کے اگلے دن ہی’’پلٹ ترادھیان کدھرہے‘‘کے عنوان سے اپنے اداروں اوروزارتِ خارجہ کوخبرداربھی کیاتھالیکن وائے افسوس،اس طرف دھیان نہیں دیاگیا۔یادرہے کہ سیاست وہ علم ہے جس میں زبان سے زیادہ خاموشی بولتی ہے اور خاموشی ہی تمام زبانوں کی مرشدہوتی ہے۔یہی خاموشی انڈیااورطالبان کے درمیان نئے باب کی بنیاد بن گئی۔
15/اگست2021کوطالبان کے دوبارہ اقتدارمیں آنے کے بعد،انڈیاکے ساتھ ان کے تعلقات میں سفارتی گرمی آنے لگی۔ابتدامیں صرف بیانات کاتبادلہ ہوا،پھر پیغامات ،اوررفتہ رفتہ رابطے،یہی وہ تدریجی عمل تھاجو اعتماد کی بنیاد بنا۔انڈیانے سمجھ لیاکہ اگروہ کابل سے کنارہ کشی اختیار کرے گاتوپاکستان اورچین دونوں وہاں اپنااثربڑھالیں گے۔مودی نے یوں اپنے مربی امریکاکے مشورہ پرنرم قوت کے ذریعے اپنا کرداردوبارہ زندہ کرنے کی راہ نکالی۔یہ وہی تدریج ہے جسے سیاست کی فنکاری کہاجاتاہے یعنی جوبات تلوار سے نہ منوائی جاسکے،وہ تبسم سے منوائی جاسکتی ہے۔انڈیانے یہی تبسم اختیارکیااورطالبان نے دروازے کھولنے میں دیرنہ کی اوراپنے مفادات کیلئے محسنوں کی گردن پرپاؤں رکھنے کی پالیسی اختیارکرلی۔
جون2022میں انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے وفدنے،جے پی سنگھ کی قیادت میں،کابل کاباضابطہ دورہ کیا۔ یہ ایک نیاآغازتھا۔ایک نئی شروعات جسے طالبان نے خیرسگالی کامظہر قراردیا۔یہی وہ لمحہ تھاجب سفارت کاری کے جمودمیں پہلی دراڑپڑی۔کابل نے دہلی سے کہاہم آزادہیں،اپنے فیصلوں کے مالک مگراپنے مفادات کیلئے اوردہلی نے جواب میں مسکراکرکہاہم بھی آزادہیں،مگراپنی مصلحتوں کے تابع ۔یہ ملاقات گویاباہمی مفادات کی پہلی اینٹ تھی۔ اس کے بعدجودیوارکھڑی ہوئی،وہ ایک دوسرے کواستعمال کرنے کے مفادات، تجارت اورعلاقائی سیاست کے پردے کی اینٹوں سے بنی۔
جنوری2025 کی خلیجی ہواں نے ایک نئی خبراپنے دامن میں چھپا رکھی تھی۔دبئی کے پرتعیش کمروں میں طالبان کے وزیرِخارجہ امیر خان متقی اورانڈیاکے نائب وزیرِخارجہ وکرم مصری کی ملاقات ہوئی۔یہ وہ لمحہ تھاجب سیاست نے ایک بارپھرنظریے پرغلبہ حاصل کیا۔یہ ملاقات محض رسمی نہیں تھی؛یہ اعتمادسازی کی وہ پہلی اینٹ تھی جودہلی اورکابل کے درمیان ایک نئے پل کی بنیاد بن گئی۔بیرونی دنیاکواس ملاقات کاعلم بعدمیں ہوا،مگرسفارتی دنیاکے اندر اس کی گونج بہت پہلے سنائی دے گئی۔یہی وہ دبئی تھاجہاں کبھی طالبان کے سیاسی دفترسے بھارت اور امریکاکے خلاف بیانات جاری ہوتے تھے،اورآج وہی دبئی دہلی سے تعلقات کے قیام کی بنیادبنا۔یہی تاریخ کاطنزہے کہ جہاں کل نفرت کی دیوار کھڑی تھی،آج وہیں مصلحت کادرکھل گیا۔
چارماہ بعد،مئی2025میں،ایک اورباب رقم ہوا۔طالبان کے وزیرِخارجہ امیرخان متقی اوربھارتی وزیرِخارجہ سبرامنیم جے شنکرکے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔یہ رابطہ کسی اعلامیے سے زیادہ معنی خیزتھا۔یہ وہ لمحہ تھاجب دہلی اورکابل کے درمیان فاصلے لفظوں میں نہیں،لہجوں میں گھلنے لگے۔اگرچہ دنیانے اسے روٹین کال کہا،مگردرحقیقت یہ مصلحتوں کادوسرا زینہ تھا۔یہی سیاست کاوہ نازک موڑہے جہاں گفتگو خاموش معاہدوں کاپیش خیمہ بن جاتی ہے۔ دنیامیں سب سے پراثرصلح وہ ہے جوزبانوں سے پہلے دلوں میں ہوجاتی ہے لیکن یہ دلوں کی نہیں ،مصلحتوں کی صلح تھی جس کے آثارابھی ظاہری اعلان سے دورتھے۔وقت کے ساتھ تعلقات کی ٹھنڈی راکھ میں حرارت آنے لگی۔ انڈیا نے طالبان کے ارکان، اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کو سرکاری ملاقاتوں،تربیت،اورعلاج کیلئے ویزے جاری کیے۔یہ عمل بظاہرانسانی بنیادوں پرتھا،مگردرحقیقت یہ چانکیہ سفارت کاری کاوہ حربہ تھا جس سے دہلی نے اپنی شبیہ کوخطے میں بظاہرنرمی اوردوستی کے رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کی۔یہی وہ لمحہ تھاجب مفادنے انسانیت کا لباس پہنا،اورسیاست نے ہمدردی کے پردے میں اپنے قدم آگے بڑھائے۔طالبان نے خاموشی سے اس پیشکش کوقبول کیا،اور یوں باہمی اعتماد کادائرہ وسیع ہونے لگا۔ یہ عمل گویااس قرآنی حقیقت کی جھلک تھاکہ:وہ تدبیر کرتے ہیں،اور اللہ بھی تدبیرکرتاہے،اوراللہ بہترین تدبیرکرنے والاہے۔دہلی اورکابل تدبیروں کے فریب میں رہے مگرنتائج کافیصلہ وقت کے ہاتھ میں رہا۔
نومبر2024وہ مہینہ جب انڈیانے ممبئی میں افغان قونصل خانہ طالبان کے مقررکردہ نمائندے کے حوالے کردیا،اورچندماہ بعدحیدرآباد میں بھی یہی عمل دہرایا گیا۔یہ وہ واقعہ تھا جس نے دہلی اورکابل کے تعلقات کوغیررسمی سے نیم رسمی سطح پرپہنچادیا۔اگرچہ انڈیا نے طالبان حکومت کوباضابطہ تسلیم نہیں کیا،لیکن دہلی میں افغان سفارت خانے میں طالبان کے مقررکردہ سفارت کاروں کوقبول کر کے نئی دہلی نے ایک خاموش مگرفیصلہ کن اعتراف کیا۔یہ وہی دہلی ہے جوکبھی طالبان کوغیرقانونی قوت قراردیتی تھی،اورآج ان کے نمائندوں سے ہاتھ ملارہی ہے۔ یہ وہی منظرہے جسے تاریخ کے آئینے میں دیکھ کرفوری یہ خیال گونجتا ہے سیاست کے منافقانہ امتحان واقعی اوربھی باقی ہیں خاص طورپرجب ہرملک اپنے وجود کو مفادکی صلیب پرقربان کرنے پرآمادہ ہو۔
پاکستان کے ساتھ سرحدی تنازعات اورتجارتی رکاوٹوں نے اسے بحری راستوں سے محروم کردیاہے۔ افغان حکام برسوں سے شکوہ کرتے آئے ہیں کہ پاکستان اکثرکراچی بندرگاہ اورواہگہ بارڈرکوسیاسی دباؤکیلئے استعمال کرتاہے۔افغانستان کی معیشت گزشتہ دودہائیوں سے زخم خوردہ ہے اوریہ زخم خودان کے اپنے ہاتھوں سے لگائی ہوئی فصل سے کاٹنے پڑ رہے ہیں۔اس زہریلی فصل کوکاشت کوختم کرنے کی بجائے طالبان حکومت نے انڈیا کے ساتھ تجارت کیلئے نئے راستے کوپاکستان پربطوردباؤاوربلیک میلنگ کیلئے استعمال کرنے کاراستہ اپنالیا۔انڈیا کیلئے بھی یہ موقع تھاکہ وہ معاشی دروازے کے بہانے پاکستان کے خلاف اپنے مفادات کی سیاسی کھڑکی کھول لے۔یوں کابل اوردہلی کے درمیان تجارت کے ذریعے سفارت کاری کی بنیادرکھی گئی۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں مفاد نے نظریے کو شکست دی،اوراقتصادنے عقیدہ پرغلبہ پایا۔ قرآن نے فرمایا: زمین میں یقین رکھنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں۔واقعی،کابل کی خاک میں آج یقین نہیں،مفاد کی نشانیاں بکھری پڑی ہیں۔
افغانستان صدیوں سے طاقتوں کی کشمکش کا میدان رہا ہے۔انڈیااورپاکستان دونوں اسے اپنے اثرورسوخ کامرکزسمجھتے ہیں۔1994سے 2001تک طالبان کے پہلے دورمیں پاکستان کاجھکاؤکابل کی طرف تھا،مگر اب تاریخ نے کروٹ لی ہے،طالبان کے دوسرے دورِحکومت میں یہی تعلقات تیزی سے بگڑچکے ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی جھڑپوں نے حالات کومزید کشیدہ کردیا۔یہ وہ نیاموڑہے جہاں پاکستان کواحساس ہورہاہے کہ جس قوت کواس نے کبھی تزویراتی گہرائی سمجھا تھا،وہی اب تزویراتی خطرہ بن چکی ہے بلکہ سیاسی مصلحت کی محتاج ہو چکی ہے۔ کابل اوردہلی کی قربت اسلام آبادکیلئے سفارتی تنہائی کی ایک نئی گھنٹی ہے جس پرفوری توجہ کی اشدضرورت ہے۔(جاری ہے)