سیاست کی راہوں میں ایمان اور مفاد کا امتحان

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
جنوبی ایشیاکی تاریخ ایک طویل پردہ ہے جس پرطاقت،مصلحت اورایمان کے رنگ ایک دوسرے میں ملتے اوربکھرتے آئے ہیں۔اس پردے کے سائے میں جب بھی کسی نئے باب کاآغازہوتاہے توصدائے ماضی کی بازگشت کچھ ایسے بلندہوتی ہے جیسے صحرائے ہیران پراچانک ہواکاجھونکاخاموشی کوچیرتاہوا،ریت کے بادل بلندکردیتاہے۔آج ہم اسی بازگشت کوسن رہے ہیںنئی دہلی اورکابل کے درمیان جوقربت نمودارہورہی ہے، وہ محض دوسفارتی ملاقاتیں یاکاغذی معاہدے نہیں، بلکہ ایک طویل کہانی کانیامنظرنامہ ہے ایک ایسی کہانی جس میں نظریات جھک گئے،مفادات پہچان بن گئے،اورقومیں اپنے وجودکے سوال کاجواب ڈھونڈتی رہ گئیں۔
افغانستان کے بارے میں،خودان کے مورخ اورتجزیہ نگارصریح وروشن کہتے ہیں:تم افغانوں کوخریدنہیں سکتے،مگراپنے مفادات کیلئے کرایہ پرلے سکتے ہو۔
یہ تلخ مگرحقیقت پسندانہ قول اس خطے کی سفارتی فلسفہ کی عکاسی کرتاہیایک قوم کی آزادیِ ارادہ کی قیمت کم نہیں،مگرجب مصلحتیں اورضرورتیں مِلاپ کرتی ہیں توعارضی اتحادوجود میں آتے ہیں۔اسی مصلحت کی کڑوی داستاں نئی دہلی اورکابل کے حالیہ رشتوں میں محفوفِ رازہے؛ایک طرف غالبِ وقت کی عملیت پسندی اوردوسری طرف تاریخ کی ناگفتہ بہ حکایات۔
یہ رپورٹ اسی پس منظرمیں ابھرنے والی فکری دستاویزہیجہاں زمانے کے مفکرین کی تمکنت،زبان وبیان کی چاشنی، اوراسلامی سوجھ بوجھ ایک ساتھ جلوہ گرہیں۔یہاں قصہ صرف ریاستوں کے درمیان سرحدی معاہدوں کانہیں؛بلکہ یہ ایک تہذیبی،نظریاتی اور اخلاقی امتحان بھی ہے کہ کیامفادِحیات کوکبھی ایمان وانصاف کے مول پرتولاجاسکتاہے؟یایہ صدائیں ہمیں ہرباریہی بتاتی رہیں گی کہ طاقت کے کھیل میں ضمیراکثرمسکین رہ جاتاہے؟ قرآن کی وہ صداجوہمیں احتیاط اورحکمت اورمحتاط رہنے کاحکم دیتی ہے آج بھی مربوط ہے۔۔۔یہ محتاطی ہی وہ رہ نماہے جوخطے کواندیشوں سے نکال سکتی ہے؛ورنہ مفادات کی عارضی قربتیں جلد ہی زخم و خون کی راہوں پر پھسل سکتی ہیں۔
دنیاکی سیاست کبھی اصولوں پرنہیں،مفادات پرچلتی ہے۔وہی انڈیاجوکل تک طالبان کوشدت پسندیکی علامت سمجھتاتھا،آج انہی کے ساتھ عملی اشتراک کی راہ پرگامزن ہے۔ بظاہریہ تعلق چراغ تلے اندھیراکی مانندایک تضادمعلوم ہوتاہے مگر دراصل یہ تضاد اس حقیقت کاعکاس ہے کہ وقت کے دھارے میں نظریات اکثرعملیت کی بھٹی میں پگھل جاتے ہیں۔یادرہے کہ سیاست میں مستقل دشمنی یادوستی ناممکن ہے،مستقل چیزصرف مفادہے۔مودی حکومت کی اسلام مخالف روش اورطالبان کی مذہبی حکومت یہ دونوں جب باہم قریب آئیں تویہ مفاہمت کسی عقیدتی ہم آہنگی کی نہیں بلکہ عملی ضرورتوں کی اولادہے۔جیساکہ قرآن کریم میں ارشادہے۔۔۔۔۔اوریہ دن ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔
دنوں کی یہ گردش ہی ہے کہ ماضی کے مخالف،حال کے شریکِ مصلحت،دہلی اورکابل آج ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔
سفارت کاری کے اس کھیل میں مسکراہٹیں اکثرخنجروں کی نوک پررقص کرتی ہیں۔انڈیااورطالبان کے حالیہ بیانات میں جونرمی نظر آتی ہے،اس کے پیچھے منافقانہ سیاست کاوہ سخت گیرحساب پوشیدہ ہے جوطاقتورہمیشہ کمزورسے لیتاہے۔انڈیاطالبان کوپاکستان پر دباڈالنے کاذریعہ بناناچاہتاہے،جبکہ طالبان دہلی کوپاکستان سے مزیدرعایتیں حاصل کرنے کیلئے ایک شطرنجی مہرابنارہے ہیں۔یہ تعلق دراصلمفادات کی تجارتہے،ایمان یانظریے کی شراکت نہیں۔ایسے ہی موقع پرشائدیہ کہاگیا کہ جہانِ سیاست میں کوئی چیزابدی نہیں،نہ دشمنی نہ دوستی،فقط مفاد ہی مفہوم ہے۔انڈین میڈیاکی مکارانہ مسکراہٹیں اورطالبان کی سفارتی لچک دونوں اپنے اپنے مفادکے اسیرہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاںحقیقت،نظریہسے سبقت لے جاتاہے۔
نواکتوبرتاچودہ اکتوبر2025،یہ چنددن جنوبی ایشیاکی تاریخ کے ایک نئے باب کاعنوان بن چکے ہیں۔طالبان کے وزیرِخارجہ مولوی امیرخان متقی کادور دہلی،محض ایک سفارتی ملاقات نہیں،بلکہ بیانئے کی شکست ہے۔وہ بیانیہ جودہلی کوکفراورکابل کوجہاد کاعلمبردارقراردیتاتھا،آج مصلحت کے فرش پردست بستہ بیٹھانظرآتاہے۔انڈیاکاپرتپاک استقبال دراصل پالیسی کی تبدیلی نہیں،بلکہ پالیسی کے نقاب کی تبدیلی ہے۔یہ وہی دہلی ہے جس نے کل تک طالبان کودہشتگردکہا،اورآج ان کیلئے اپنے درواز ے تعاون کے نام پرکھول دیے۔یہ منظرتاریخ کے طمانچے جیساہے جوبتاتاہے کہ اقتدارکے دروازے پرنظریہ ہمیشہ زنجیرمیں جکڑاہوتاہے۔
کابل اوردہلی کی قربت،اسلام آبادکیلئے ایک نئی تشویش کاباعث بن گئی ہے۔متقی کادورہ دہلی دراصل اسلام آبادکے ریجنل ڈائیلاگ کے صرف دس دن بعدہوا،جہاں طالبان مخالف افغان شخصیات جمع ہوئیں۔یہ سیاسی بساط کچھ اس اندازسے بچھائی گئی ہے کہ ہرفریق دوسرے کومات دینے کیلئے اپنے مہرے قربان کرنے پرآمادہ ہے۔اسلام آبادمیں ہونے والااجلاس پاکستان کیلئے سفارتی دفاع کی کوشش تھی،جبکہ دہلی میں طالبان کااستقبا ل جوابی حملہ کی بھرپورسازش۔یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہواجب پاکستان اورطالبان کے درمیان سرحدی جھڑپیں جاری تھیں،اورپاکستان وانڈیاکی فضاں میں گولیوں کی گونج ابھی خاموش نہیں ہوئی تھی۔یہ لمحہ گویابتارہا ہے کہ امن،طاقت کے ایوانوں میں نہیں ،توازن کے ایوانوں میں جنم لیتاہے۔
طالبان کے وزیرِخارجہ کے دور دہلی نے جہاں ایک نئے سفارتی دورکاآغازکیاہے وہاں اس نے اپنے محسنوں کوبھی یہ پیغام دیا ہے کہ وہ وقت آنے پربھارت جیسے ملک جوطالبان کے خون کے پیاسے تھے،ان سے بھی ہاتھ ملانے سے گریزنہیں کرے گا۔نئی دہلی کیلئے یہ موقع اپنے اسٹریٹجک مفادات کے احیاکاہے چاہے اس کیلئے نظریاتی تضادات کوقربان ہی کیوں نہ کرناپڑے۔طالبان کیلئے یہ تعلق محض سیاسی بقاکاوسیلہ ہے مگربھارت کی چانکیہ سیاست کہ دشمن کے دشمن کواپنادوست بناکردونوں سے انتقام لیاجائے۔ انڈیاکامقصد افغانستان میں اپنااثرورسوخ بحال کرکے پاکستان اورچین کے بڑھتے کردارکومتوازن کرناہی مقصودنہیں بلکہ چین پاکستان کے سی پیک کونقصان پہنچانے کی امریکی سازشوں کی تکمیل بھی ہے۔مگرافسوس کہ یہاںصلح کاتصورایمان کے رشتے سے نہیں، مفادکے بندھن سے جڑاہواہے۔
چندسال پہلے تک جس منظرکاتصوربھی بعیدازقیاس تھا،آج وہ حقیقت کی صورت میں سامنے ہے۔طالبان اوربھارت کے مابین بڑھتی قربتیں وہ طمانچہ ہیں جووقت نے نظریاتی استقامت کے چہرے پرماراہے۔پاکستان،جس نے کابل پرطالبان کے قبضے کواسلامی فتح سمجھ کرخیرمقدم کیاتھا،آج اسی طالبان حکومت کی دہلی سے قربت پرانگشت بدنداں ہے ۔یہ منظراس خطے کے بدلتے سیاسی توازن کی گواہی دے رہاہے کہ جنہیں تم اپنے خیمے کے چراغ سمجھتے تھے،وہی اب آندھیوں کے رفیق بن چکے ہیں۔طالبان اورانڈیاکی قربت محض دوحکومتوں کی بات نہیں،بلکہ دودہائیوں پرمحیط تلخی،بے اعتمادی اورنظریاتی فاصلوں کی شکست ہے۔ اب یہ قربتیں پاکستان کیلئے سیاسی دھچکانہیں بلکہ سفارتی زلزلہ ہیں۔
تحریکِ طالبان کے قیام(1994)سے اب تک بھارت ہمیشہ طالبان کوپاکستانی پراکسی کے طورپردیکھتاآیاہے۔اسی بنیادپربھارت نے ایران اورروس کے ساتھ مل کرشمالی اتحاد کی پشت پناہی کی،تاکہ کابل سے طالبان کاسایہ دوررکھاجاسکے۔2001میں جب امریکانے افغانستان پرحملہ کیا،بھارت نے غنی حکومت کابڑاحمایتی بن کرطالبان کے خلاف اپنی سرمایہ کاری کی۔ان20برسوں میں طالبان اوربھارت کی نفرت ایک مسلمہ حقیقت تھی لیکن و قت وہ استادہے جوسب سے زیادہ سخت سبق دیتاہے۔اب وہی بھارت،جس کے میڈیامیںطالبان کانام سن کرتلخی چھاجاتی تھی،انہی طالبان کواپناعلاقائی پارٹنرکہنے لگاہے۔یہ ہے وپ لمحہ جس یتغیراحوال کہاتھاجب حق پسپانہ ہو،مگراہلِ حق مصلحت میں الجھ جائیں،توباطل کوموقع ملتاہے کہ وہ دوستی کے پردے میں اپنی دشمنی بیچے۔
فروری2020میں قطرکے شہردوحہ میں جب امریکااورطالبان کے مابین امن معاہدہ ہوا،تو بھارت کیلئے یہ خبرکسی زلزلے سے کم نہ تھی۔اس معاہدے نے افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلاکی راہ ہموارکی،مگربھارت کیلئے یہ خارجہ پالیسی کابحران تھا۔15اگست2021کوجب طالبان نے کابل پرقبضہ کیا،بھارت کے سفارت خانے خالی اوربندہوگئے ،اوردہلی نے افغانستان کے شہریوں سے نظریں چرالیں۔طالبان نے اسے دھوکہ دہی قراردیا،اور دہلی نے اسے سکیورٹی کی مجبوری کابہانہ بنایا۔یہی وہ لمحہ تھاجب اعتمادکا درخت جڑ سے اکھڑگیالیکن سیاست وہ مالی ہے جوایک ہی زمین پرنئے بیج لگادیتاہے۔چندہی برسوں میں بھارت نے اسی طالبان سے رابطے استوارکر لیے جنہیں وہ کل تک غیرمہذب، خونی اور وحشی قراردیتاتھا۔ سیاست کی راہوں میں کل کادشمن،آج کاحلیف بن جاتاہے؛یہ وہ میدان ہے جہاں اصول نہیں،مقاصد فیصلہ کرتے ہیں۔(جاری ہے)