خودکشی نفسیاتی مسئلہ

ندیم ملک
خودکشی محض ایک فرد کی زندگی کے خاتمے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک پورے معاشرے کی نفسیاتی اور سماجی شکست کا آئینہ ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں اس کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے، اور افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہم اس سنگین مسئلے کو صحت کا نہیں، بلکہ شرم اور بدنامی کا مسئلہ سمجھ کر خاموشی کے پردے میں چھپائے رکھتے ہیں۔ مگر خاموشی نے کبھی بھی کسی مسئلے کو ختم نہیں کیا؛ اس نے ہمیشہ اسے بڑھایا ہے
خودکشی کی اصل جڑیں معاشی تنگی، سماجی دباؤ اور خاندانی مسائل میں تو ضرور ملتی ہیں، لیکن اس کے اصل محرکات نفسیاتی ہوتے ہیں۔ انسانی ذہن ایک مسلسل کشمکش کا میدان ہے۔ جب اندرونی جنگ طاقتور ہو جائے تو بیرونی زندگی بے معنی لگنے لگتی ہے۔ یہی کیفیت انسان کو اس مقام تک لے جاتی ہے جہاں وہ زندگی جیسی عظیم نعمت سے منہ موڑ لیتا ہے‘ڈپریشن، انزائٹی، بائی پولر ڈس آرڈر، PTSD، اور نشے کا عادی پن وہ بڑے نفسیاتی عوامل ہیں جو انسان کے ذہنی توازن کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خودکشی کرنے والے افراد میں سے بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو اندر سے ٹوٹ چکے ہوتے ہیں، مگر بظاہر معمول کے مطابق زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ وہ ہنستے ہیں، کام کرتے ہیں، ملتے جلتے ہیں لیکن ان کے دل میں ایک ایسی آگ جل رہی ہوتی ہے جسے کوئی محسوس نہیں کرتا۔ نفسیات کا اصول ہے کہ ’’سب سے زیادہ مسکراتے لوگ اکثر سب سے زیادہ زخمی ہوتے ہیں۔‘‘ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ ان زخموں کو دیکھنے کے بجائے انہیں ’’ڈرامہ‘‘ یا ’’کمزوری‘‘ کہہ کر مسترد کر دیتا ہے پاکستان میں ذہنی صحت پر بات کرنا آج بھی مشکل سمجھا جاتا ہے۔ لوگ ماہرِ نفسیات کے پاس جانے سے شرماتے ہیں، اسے اپنی شخصیت پر دھبہ سمجھتے ہیں، اور علاج کے بجائے خاموشی کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ خاموشی جو اندر سے کھا جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خودکشی کے کیسز بڑھ رہے ہیں، مگر علاج اور آگاہی کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے‘یہاں ایک اور تلخ حقیقت بھی سامنے آتی ہے: پاکستان میں خودکشی کی درست شرح کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی جامع اعداد و شمار موجود نہیں۔ نہ کوئی قومی ڈیٹا بیس ہے، نہ کوئی مؤثر پالیسی۔ ایسے میں خودکشی صرف ایک خبر بن کر رہ جاتی ہے چند گھنٹے کے لیے میڈیا اسے اچھالتا ہے، پھر معاشرہ اگلی خبر کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ اس دوران ایک اور گھر برباد ہو جاتا ہے، ایک اور خاندان اجڑ جاتا ہے، مگر ریاست اور معاشرہ اس المیے سے سبق نہیں لیتا‘ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ خودکشی کی روک تھام کے لیے سب سے پہلا قدم ذہنی صحت کو ترجیح دینا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ذہنی صحت کو جسمانی صحت جتنا اہم سمجھا جاتا ہے، وہاں اسکولوں میں کونسلنگ سنٹر قائم ہیں، ہیلپ لائنز دن رات فعال ہیں، میڈیا تربیت یافتہ ہے، اور ریاست مسائل کو چھپاتی نہیں بلکہ حل کرتی ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں اسکولوں میں کونسلنگ کا تصور نہ ہونے کے برابر ہے۔ نوجوان نسل شدید دباؤ کا سامنا کرتی ہے مگر اسے اپنی بات کہنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ والدین بھی اکثر ان کے جذبات کو ’’بچکانہ‘‘ قرار دے کر بدلنے کی کوشش نہیں کرتے‘یہی دباؤ انہیں خاموشی کی عادت ڈال دیتا ہے۔ یہی خاموشی انہیں اندر سے توڑتی ہے۔ اور ایک دن یہی خاموشی انہیں خودکشی جیسے تاریک انجام کی طرف لے جاتی ہے‘اگر پاکستان کو اس بڑھتے ہوئے بحران سے بچانا ہے تو چند بنیادی اقدامات فوری طور پر ضروری ہیں:اول: خودکشی کو جرم قرار دینے کے بجائے نفسیاتی ایمرجنسی سمجھا جائے۔قانونی خوف سے لوگ اپنی ذہنی کیفیت چھپاتے ہیں۔ انہیں سزا نہیں، علاج کی ضرورت ہوتی ہیدوم: ملک بھر میں ذہنی صحت کے مراکز قائم کیے جائیں۔ہر ضلع میں نفسیاتی ہسپتال یا کم از کم ایک مضبوط ڈیپارٹمنٹ ہونا چاہیے، جہاں تربیت یافتہ ماہرین آسانی سے دستیاب ہوںسوم: تعلیمی اداروں میں تربیت یافتہ کونسلرز کی تعیناتی لازمی قرار دی جائے۔نوجوان سب سے زیادہ حساس اور خطرے میں ہیں۔ ان کی رہنمائی ان کی زندگی بچا سکتی ہے
چہارم: میڈیا کو سنسنی خیزی کے بجائے رہنمائی کا کردار اپنانا ہوگا خودکشی کی ’’رومانوی‘‘ یا جذباتی رپورٹنگ اکثر ’’کاپی کیٹ‘‘ واقعات کو جنم دیتی ہے، جو عالمی تحقیق سے ثابت شدہ حقیقت ہیپنجم: والدین اور خاندانوں کو یہ سمجھایا جائے کہ بچے جذبات رکھتے ہیں، دباؤ محسوس کرتے ہیں، اور انہیں سنی جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔گھر وہ پہلی جگہ ہے جہاں انسان اپنے زخم بتا سکتا ہے، مگر اگر گھر ہی سننے سے انکار کر دے تو پھر زندگی میں کہاں جائے؟ششم: معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے ریاستی سطح پر پالیسی تشکیل دی جائے۔غربت، بے روزگاری اور معاشی ناامیدی خودکشی کے محرکات میں سے ایک اہم عنصر ہیں۔ معاشی تحفظ ذہنی سکون کا پہلا قدم ہے اور یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ خودکشی کبھی بھی کوئی ’’اچانک‘‘ فیصلہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک طویل ذہنی جنگ، اندھیری راتوں، بے خوابیوں، بے بسیوں اور خاموش آہوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اگر ہم اس جنگ کو پہچان لیں، اس کے آثار دیکھ لیں، اس کے اشاروں کو سمجھ لیں تو شاید ہم کئی زندگیاں بچا سکتے ہیں
اگر آپ کے آس پاس کوئی شخص اداسی، بے چینی یا مایوسی میں مبتلا دکھائی دے، اگر وہ زندگی کے بارے میں منفی جملے بولنے لگے، اگر وہ خود کو بوجھ یا ناکام محسوس کرے تو اسے تنہا نہ چھوڑیں۔ اس سے بات کریں، اسے تسلی دیں، اس کے ساتھ بیٹھیں، اسے سنیں۔ کبھی کبھی ایک جملہ، ایک لمحہ، ایک توجہ کسی کی پوری زندگی بدل سکتی ہے زندگی اللہ کی امانت ہے۔ اسے بچانا ریاست، معاشرے، اہلِ گھر اور ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔خودکشی ایک نفسیاتی مسئلہ ہیاور اس کا حل ہمدردی، آگاہی، مکالمہ اور بروقت مدد میں ہے