احمدخان اچکزئی
محترم قارئین۔ پاکستان کی معاشی اور سماجی تاریخ کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد کے ابتدائی دو عشرے صنعتی اور زرعی ترقی کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل تھے۔ 1970 سے قبل پاکستان کی معیشت کا ڈھانچہ "ایگرو-انڈسٹریل" ماڈل پر استوار تھا، جہاں زراعت صنعت کو خام مال فراہم کرتی تھی اور صنعت زراعت کو جدید ٹیکنالوجی۔ اس ہم آہنگی کی وجہ سے ملکی معیشت کا گراف تیزی سے بلندی کی طرف گامزن تھا اور پاکستان خطے میں ایک "تولیدی ریاست کے طور پر ابھر رہا تھا۔ تاہم، 1970 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد"نیشنلائزیشن" یا صنعتوں کو قومیانے کی پالیسی نے اس ترقی پسندانہ تسلسل کو بریک لگا دی۔صنعتوں اور تعلیمی اداروں کو سرکاری تحویل میں لینے کے فیصلے نے نجی شعبے کا اعتماد مکمل طور پر ختم کر دیا۔ سرمایہ کاروں نے اپنا سرمایہ نکال لیا اور پیداواری عمل مفلوج ہو کر رہ گیا۔ زرعی اصلاحات، جو بظاہر عوامی فلاح کے لیے تھیں، انتظامی پیچیدگیوں اور سیاسی مداخلت کی نذر ہو گئیں، جس سے زراعت کا شعبہ بھی زوال پذیر ہوا۔ اس پالیسی شفٹ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ پاکستان ایک پیدا کرنے والی ریاست سے تبدیل ہو کر ایک "صارف ریاست بن گیا، جہاں ہم اپنی ضرورت کی اشیاء خود بنانے کے بجائے درآمدات پر انحصار کرنے لگے۔معاشی ڈھانچے کی اس تبدیلی نے صرف مادی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ قوم کے نفسیاتی اور حیاتیاتی نظام کو بھی تہہ و بالا کر دیا۔ آج پاکستانی معاشرے میں جو طرزِ زندگی رائج ہے، وہ معاشی خودکشی کے مترادف ہے۔ سورج کی روشنی اور قدرتی توانائی سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ہماری قوم راتوں کو جاگنے اور دن کے پچھلے پھر کام شروع کرنے کی عادی ہو چکی ہے۔ بازاروں کا دوپہر کو کھلنا اور کاروبار کا شام کو شروع ہونا نہ صرف بجلی اور ایندھن کے بحران کو جنم دیتا ہے بلکہ یہ ایک ایسی قوم کی نشانی ہے جو وقت کی قدر و قیمت سے محروم ہو چکی ہے۔ یہ طرزِ عمل ہماری جنیاتی ساخت پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے، جس سے ذہنی تناؤ اور سستی کا غلبہ بڑھ رہا ہے۔معاشی اور معاشرتی بگاڑ کے ساتھ ساتھ ایک اور خطرناک پہلو "سماجی انجینئرنگ" اور غیر مرئی کنٹرول کا ہے۔ پاکستان کے شمالی اور جنوبی حصوں میں رہنے والے عوام کو ایک خاص قسم کے نفسیاتی اور "روبوٹک" نظام کے تحت لایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیاء اور ڈیجیٹل ذرائع کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جو انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو معطل کر کے اسے سسٹم کا تابع بنا دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا غیر مرئی نظام ہے جو نظر تو نہیں آتا لیکن انسان کی شخصیت کو بتدریج مسخ کر دیتا ہے۔اس کنٹرول کی عملی شکل ہمیں چیک پوسٹوں، سیکیورٹی کے نام پر ہونے والی تلاشیوں اور ایئر پورٹوں پر رائج تحقیر آمیز رویوں میں نظر آتی ہے۔ جب ایک شہری کو بار بار گاڑی سے اتار کر تلاشی لی جاتی ہے یا اس کی عزتِ نفس کو مجروح کیا جاتا ہے، تو اس کا مقصد صرف سیکیورٹی نہیں ہوتا بلکہ اس کے اندر کے "خود اعتماد انسان" کو توڑنا ہوتا ہے۔ یہ اعمال دراصل ایک ایسی ذہن سازی کا حصہ ہیں جس کا مقصد عوام کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ ریاست کے سامنے بے بس ہیں اور انہیں ہر حال میں "سسٹم" کی غیر منطقی تابعداری کرنی ہے۔یہ صورتحال ایک "نفسیاتی آسیب" کی مانند ہے جس میں پوری قوم کو جکڑ لیا گیا ہے۔ جب ایک انسان کی خود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے تو وہ احتجاج کی صلاحیت کھو دیتا ہے اور ایک ایسے سانچے میں ڈھل جاتا ہے جہاں وہ صرف حکم ماننے والی مشین بن کر رہ جاتا ہے۔ پاکستان کو اس گرداب سے نکالنے کے لیے صرف معاشی اصلاحات کافی نہیں ہیں، بلکہ ہمیں اپنے تعلیمی، نفسیاتی اور سماجی نظام کو بھی ازسرِ نو ترتیب دینا ہوگا۔ ہمیں دوبارہ سے "تولیدی ذہنیت" کی طرف لوٹنا ہوگا، وقت کی قدر کرنی ہوگی اور ان غیر مرئی زنجیروں کو توڑنا ہوگا جو ہماری انفرادی اور اجتماعی آزادی کو سلب کر رہی ہیں۔ اگر ہم نے اپنی خود اعتمادی اور پیداواری صلاحیت کو بحال نہ کیا تو ہم صرف ایک "مصرف معاشرہ" بن کر تاریخ کے صفحات میں گم ہو جائیں گے۔