چائلڈ لیبر ایک سنگین سماجی مسئلہ

سلمان احمد قریشی

 چائلڈ لیبر، یعنی بچوں سے ان کی عمر اور جسمانی طاقت سے زیادہ کام لینا، دنیا بھر میں ایک سنگین مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف بچوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرے کے مجموعی ترقی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ پاکستان میں بے تحاشا مسائل موجود ہیں اور انہی مسائل میں ایک بہت بڑا مسئلہ چائلڈ لیبر کا بھی ہے۔پاکستان میں بہت بڑے پیمانے پر کم عمر اور نابالغ بچوں سے محنت مزدوری کرائی جاتی ہے۔
 سال نو کے آغاز پر لاہور سے ایک 16 سالہ بچے کی میت اوکاڑہ آئی جو تشدد کے نتیجہ میں ہلاک ہوا۔تھانہ غالب مارکیٹ لاھور میں مالک مکان کے تشدد سے شدید زخمی ہونے والا نو عمر 14 سالہ سنی جاں بحق ہو گیا تھا گھریلو ملازم سنی 6 ہزار کے عوض ساجد نامی شخص کے ہاں ملازمت کرتا تھا مالک مکان نے بیوی اور دیگر اہلخانہ کے ہمراہ کم سن بچے پر تشدد کیا نازک اعضاء کاٹ کر جلایا گیا۔مقدمہ درج کر کے 6 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔گرفتارکئے گئے جبکہ میاں بیوی سمیت 4 ملزم فرار ہیں ایف آئی آر کے متین کے مطابق بچے کے جسم پر تشدد کے 25 نشانات ہیں نشانات نازک  اعضا دونوں سائیڈ سے کٹا ہوئے تھے بچے کے بازوں پر رسی کے بھی نشامنات موجود تھے اور نیلگوں نشانات پڑے ہوئے تھے 14 سالہ گھریلو ملازم سنی اوکاڑہ کے نواحی گاؤں کا رہائشی تھا والد کے مطابق سنی نے 4 ماہ قبل ملزم کیگھر میں ملازمت اختیار کی بچے کیساتھ بدفعلی بھی کی گئی  تشویشناک حالت میں جنرل اسپتال لاہور منتقل کیا گیا تھاجہاں زخموں تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گیا بچے کی لاش پوسٹمارٹم کیبعد  نواحی گاؤں لائی گئی توکہرام مچ گیا میت کو دیکھ کر ہر انکھ اشکبار تھی سینکڑوں سو گواروں کی موجودگی میں جنازہ پڑھا گیا میت کو نواحی گاؤں کیقبرستان میں دفنایا گیا۔ایک اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں،یہ چائلڈ لیبر کا بدترین نتیجہ ہے۔چائلڈ لیبر شہروں اور دیہاتوں دونوں میں پائی جاتی ہے۔ اور یہ واحد معاملہ ہے جس میں بغیر کسی تفریق کے چاروں صوبے ہی آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان چائلڈ لیبر کے حوالے سے پوری دنیا میں پہلے 5 ممالک میں شامل ہے۔اس حقیقت سے بھی انکارممکن نہیں کہ پاکستان میں چائلڈ لیبر کے حوالہ سے مستند سروے نہیں ہوا۔ بے روزگاری اور سکولز نہ جانے والے بچوں کی شرح چائلڈ لیبر کے حوالہ سے اعدادوشمار کوماننے کا پیمانہ ہے۔
 بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں سروے کرنا ممکن ہی نہیں جیسے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے بہت سے دشوار گزار، پسماندہ اور خطرناک علاقے اور اسکے ساتھ ساتھ پنجاب  کی کاسمیٹک ترقی بھی حقائق چھپانے کے لیے کافی ہے۔اسی طرح ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گھریلو سطح پر ہونے والی چائلڈ لیبر چونکہ عام طور پر نہایت بے قاعدگی سے ہوتی ہے اور اس کے اعداد و شمار اکٹھا کرنا بہت مشکل بھی ہے۔ اسی طرح اور بھی کئی وجوہات ہیں۔ انہی وجوہات کی بنیاد پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں چائلڈ لیبر کی درست تعداد ان سرویز سے بھی زیادہ ہے۔پاکستان میں مؤثر قانون اور کارروائی نہ ہونے پر ملک بھر میں بچہ مزدوروں کی تعداد کروڑوں میں ہے، صرف پنجاب میں چائلڈ لیبر کی شرح16 فیصد کے قریب ہے۔پنجاب میں دو کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر اور اکثر مزدوری پر مجبور ہیں۔محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کی رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ میں چائلڈ لیبر میں اضافہ ہوا۔چائلڈ لیبر کی کم شرح کراچی میں 2.38 فیصد اور زیادہ شرح قمبر شہدادکوٹ میں 30.8  حیدرآباد میں 4.5 فیصد، عمرکوٹ میں 21 فیصد ہے۔سانگھڑ میں 25.7 فیصد، جیکب آباد میں 12.4 فیصد، مٹیاری میں 13.6 فیصدسکھر میں 8.6 فیصد، ٹنڈومحمد خان میں 20.3 فیصد، ٹنڈوالہیار میں 4.7 فیصد چائلڈ لیبر ہے۔جامشورو میں 11.4 فیصد، نوشہرو فیروزمیں4فیصد،میرپورخاص میں15.9 فیصد  لاڑکانہ میں 7.6 فیصد، قمبر شہدادکوٹ میں 30.8 فیصد، گھوٹکی میں 17.6 فیصد خیرپور میں 9 فیصد، شکارپور میں 20.2 فیصد، تھرپارکر میں 29 فیصد بدین میں 7.2 فیصد، سجاول میں 11.2 فیصد، ٹھٹھہ میں میں 23 فیصد کشمور میں 5 فیصد، دادو میں 3.2 فیصد، نوابشاہ میں 8.2 فیصد چائلڈ لیبر ہے۔
 ہر حکومت میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کا اعلان تو کیا گیا مگر نا کافی اقدامات اٹھائے گئے جس کی وجہ سے بچہ مزدوری میں اضافہ ہو رہا ہے۔پاکستان میں چائلڈ لیبر نا صرف بڑے اور چھوٹے شہروں میں بلکہ دیہاتوں میں بھی کثیر تعداد میں پائی جاتی ہے۔ اگر شہروں کی بات کی جائے تو زیادہ تر تعداد ہمیں چھوٹی صنعتوں، ہوٹلوں، چائے خانوں اور دیگر چھوٹی دکانوں میں اور اسی طرح ان سے جڑے ہوئے اور بہت سے شعبوں میں نظر آتی ہے مثلا اشیاء کی لوڈنگ وغیرہ۔ دیہاتوں میں وسائل کی کمی اور غربت کی وجہ سے ماں باپ اپنے آٹھ آٹھ، دس دس سال کے بچوں کو قریبی شہروں میں کمانے کیلئے بھیج دیتے ہیں اور کوئی بھی ہنر یا تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے یہ معصوم بچے ہوٹلوں، چائے خانوں اور دیگر چھوٹی موٹی دکانوں میں کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے بچوں کو ماں باپ شہروں میں کوئی ہنر سیکھنے کیلئے بھیج دیتے ہیں کہ چلو کوئی ہنر سیکھ کے اچھے پیسوں والی نوکری مل جائے گی اور مستقبل میں لڑکا خود اپنی دکان لگا لے گا۔ مگر یہ بچے جب شہروں میں پہنچتے ہیں تو آگے ان کی مجبوری اور سستی لیبرکو دیکھ کر آٹو موبائل، الیکٹریکل اور لوہے کی دکانوں وغیرہ کے مالکان کی رالیں ٹپکنا شروع ہو جاتی ہیں اور وہ ان معصوم بچوں کی محنت کا شدید ترین استحصال کرتے ہیں۔ ان معصوم بچوں کو وہ مالکان دن بھر کی شدید محنت اور مشقت کے بعد معمولی سی دیہاڑی دے کر ساتھ یہ احسان بھی چڑھاتے ہیں کہ وہ انہیں سکھا رہے ہیں اور سارا سارا دن ان سے شدید گرمی میں نا صرف دکان کا کام لیتے ہیں بلکہ اپنے آپ کو بادشاہ تصور کرتے ہوئے ان معصوم بچوں سے سارا دن فالتو کام جیسے بوتلیں، جوس یا چائے وغیرہ بھی منگواتے ہیں۔ یہ عمل آج کے عہد میں غلامی کی منظر کشی کرتا ہے۔ اسی طرح شہروں میں حکمران طبقے کی دیکھا دیکھی مڈل کلاس طبقہ بھی ویسے مہنگے کھانا بنانے والے یا پھر ہر کام کیلئے علیحدہ علیحدہ ملازم تو نہیں رکھ پاتے مگر ایک دس، بارہ سال کا معصوم بچہ یا بچی گھر میں کام کرنے کیلئے رکھ لیتے ہیں اور ان معصوموں سے سارا دن کام کرواتے ہیں اور ان پر رعب جھاڑ کر اپنے آپ کو حکمران طبقہ محسوس کرتے ہیں۔ اس گھریلو چائلڈ لیبر کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔
 چائلڈ لیبر کے کئی عوامل ہیں، جن میں غربت، تعلیم کی کمی، اور بے روزگاری شامل ہیں۔ غریب خاندان اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے کام پر بھیجنے پر مجبور ہوتے ہیں تاکہ گھر کی مالی ضروریات پوری ہو سکیں۔ اس کے علاوہ، کئی مقامات پر مزدوری کے قوانین کا نفاذ نہ ہونا بھی اس مسئلے کو بڑھا دیتا ہے۔چائلڈ لیبر بچوں کی جسمانی، ذہنی، اور جذباتی نشوونما پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ کم عمر میں مشقت کرنے سے ان کی صحت خراب ہو سکتی ہے اور تعلیمی مواقع ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ بہتر مستقبل کے لیے تیار نہیں ہو پاتے، اور غربت کا دائرہ جاری رہتا ہے۔
 چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے حکومت، غیر سرکاری تنظیموں، اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ غربت کے خاتمے، معیاری تعلیم کی فراہمی، اور مزدوری کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔کنفیوشس نے کہا تھا ''اگر آپ کا منصوبہ 1 سال کا ہے تو چاول لگائیں، اگر آپ کا منصوبہ 10 سال کا ہے تو درخت لگائیں، اور اگر آپ کا منصوبہ 100 سال کا ہے تو بچوں کو تعلیم دیں۔''بچوں کو ان کے حقوق دینا اور ان کی تعلیم و تربیت پر توجہ دینا ایک ذمہ دار معاشرے کی نشانی ہے۔ یہ بچے ہی کل کا مستقبل ہیں، اور ان کے بہتر مستقبل کے لیے ہمیں آج ہی اقدامات کرنے ہوں گے۔
 والدین کو بھی اس بات کی ترغیب دی جانی چاہیے کہ وہ بچوں کی تعلیم کو ترجیح دیں۔چائلڈ لیبر ایک ایسا مسئلہ ہے جو صرف اجتماعی کوششوں سے ختم کیا جا سکتا ہے۔