سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں پانی کے وسائل پر کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کی وجوہات درج ذیل ہیں
٭ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس کی وجہ سے پانی کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرنے بھی گلشیئرز کے پگھلنے، غیر یقینی بارشوں، اور شدید گرمی کی لہروں نے دریاؤں کے بہا ؤکو غیر مستقل بنا دیا ہے۔ مثال کے طور پر، دریائے سندھ کا 80%پانی ہمالیہ کے گلیشیئرز سے آتا ہے، جو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ یہ صورتحال دونوں ممالک میں پانی کی دستیابی کو غیر یقینی بنا رہی ہے۔
٭بھارت کی جانب سے دریاؤں پر مزید ڈیم بنانے کی حکمت عملی پاکستان میں پانی کے شدید بحران کا سبب بن سکتی ہے۔
٭پاکستان کا انحصار مغربی دریاؤں پر ہے، اس لئے اگر بھارت پانی روکنے کی پالیسی اپناتا ہے تو پاکستان میں زرعی پیداوار شدید متاثر ہو سکتی ہے، جو معیشت اور خوراک کی دستیابی کے لیے خطرہ بنے گی۔
٭پاکستان اور بھارت کی بڑھتی ہوئی آبادی پانی کی طلب میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ آبادی اور زراعت کے دبا ؤکی وجہ سے پاکستان دنیا کا چوتھا سب سے بڑا پانی کا ’’اسٹریسڈ‘‘ملک ہے، جہاں فی کس پانی کی دستیابی 1,000 کیوبک میٹر سالانہ سے بھی کم ہو چکی ہے۔ ہندوستان میں بھی 60 کروڑ افراد پانی کی قلت کا شکار ہیں۔ زراعت (جو دونوں ممالک کی معیشت کا 20-25%ہے)کیلئے پانی کی مسلسل طلب تنازعات کو ہوا دے رہی ہے۔
٭جیو پولیٹیکل تنا یعنی کشمیر تنازعہ پاکستان بار بار ہندوستان پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتا ہے اور بھارتی دہشت گردی کے معاملات پر تعلقات کشیدہ ہونے سے پانی کے معاملات پر بات چیت مشکل ہو گئی ہے۔
٭کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ہندوستان پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے پاکستان کی طرف جانے والے پانی کے بہا کو کنٹرول کر کے پاکستان پر دبا ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدہ جو 21ویں صدی کا سب سے طویل المدتی اور کامیاب معاہدہ سمجھا جاتا تھا، کیا سندھ طاس معاہدہ ناکام ہو چکا ہے اور موجودی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تیار نہیں؟
٭ڈیٹا شئیرنگ کے فقدان کی بنا پر دونوں ممالک دریا کے بہا ؤکے اعداد و شمار کو شفاف طریقے سے شیئر نہیں کرتے۔
٭موسمیاتی تبدیلیوں کے عدم احتساب کی بنا پر بھی معاہدے میں گلوبل وارمنگ یا گلیشیئرز کے پگھلا ؤجیسے عوامل شامل نہیں۔
٭ہندوستان معاہدے کے مطابق تمام متنازعہ مسائل کے حل کی ثالثی کیلئے ورلڈ بینک کی بجائے دو طرفہ مذاکرات پر زور دے رہا ہے جس کی بنا پر ان مجوزہ مسائل کے حل میں تاخیر ہو رہی ہے جس کیلئے بھارت مکمل ذمہ دار ہے۔ معاہدے میں گلوبل وارمنگ یا گلیشیئرز کے پگھلا ؤجیسے عوامل شامل نہیں۔
٭دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کا حل معاہدے کے تحت موجود طریقہ کار سے ہی ممکن ہے اور مسئلے کے ممکنہ حل کیلئے فوری طور پر ان عوامل پر عمل کرنا ہو گا:
٭دونوں ممالک کو سندھ طاس معاہدے کا جدید جائزہ لیتے ہوئے معاہدے کے پرانے نکات پر نظرِ ثانی کر کے بدلتے حالات کے مطابق اسے اپڈیٹ کرنا ہوگا۔
٭پاکستان کو مزید ڈیم اور آبی ذخائر تعمیر کرنے ہوں گے تاکہ پانی کے ذخیرے کو بڑھایا جا سکے۔ بین الاقوامی فورمز پر آبی تنازعات کو بہتر سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے۔
٭دونوں ممالک کو پانی کے مثر استعمال، جدید زراعتی نظام اور پانی کی بچت کی پالیسیوں کو اپنانا ہوگا۔
٭موسمیاتی تبدیلیوں، ڈیٹا شیئرنگ، اور نئی ٹیکنالوجیز کو معاہدے میں شامل کیا جائے
٭ ڈرپ ایریگیشن، اسمارٹ واٹر گرڈز، اور واٹر ریسائیکلنگ پلانٹس جیسی جدید ٹیکنالوجی سے پانی کے استعمال میں کارکردگی بڑھائی جا سکتی ہے۔
٭اگر دونوں ممالک پانی کے انتظام کو جیو پولیٹکس سے بالاتر رکھنے میں ناکام رہے، تو یہ تنازعہ کشیدگی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق2050 تک پاکستان میں پانی کی دستیابی موجودہ سطح سے 50%کم ہو جائے گی، جو صورتحال کو مزید سنگین بنا دے گی جو ایک خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے۔
مزید برآں، بھارت نے حال ہی میں سندھ طاس معاہدے میں ترامیم کا نوٹس جاری کیا ہے، جس میں موجودہ حالات کے پیش نظر معاہدے پر نظرثانی کی بات کی گئی ہے۔ پاکستان نے اس نوٹس پر باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا، لیکن یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان آبی تنازعات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان حالات میں، پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعات کے حل کے لیے مثر مذاکرات اور بین الاقوامی ثالثی کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم اور معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
سوال یہ ہے کیا پانی کے نام پر جنگ ہو سکتی ہے؟ پانی کی قلت اور اس پر کنٹرول کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، براہِ راست جنگ کے امکانات کم ہیں، ، لیکن پانی کی بڑھتی ہوئی قلت اور آبی وسائل پر کنٹرول کی کشمکش مستقبل میں تنازعات کو شدت دے سکتی ہے۔ ۔کیونکہ سندھ طاس معاہدہ اب بھی فعال ہے، اور اس کی پاسداری بین الاقوامی دبا کے تحت کی جاتی ہے۔ بین الاقوامی ثالثی کے راستے موجود ہیں، جن کے ذریعے تنازعات کو حل کیا جا سکتا ہے۔ اس بحران کو روکنے کے لیے سفارتی اور تکنیکی حل ناگزیر ہیں، تاکہ پانی کے وسائل کو منصفانہ اور پائیدار طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔ جوہری طاقت ہونے کے ناطے پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی تصادم کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں، اس لیے دونوں ممالک جنگ سے گریز کریں گے۔ البتہ، اگر پانی کی قلت مزید بڑھتی ہے اور سفارتی حل تلاش نہ کیا گیا، تو مستقبل میں خطے میں آبی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں اور یہ عین ممکن ہے کہ پانی کا مسئلہ ان دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان ایسی جنگ کا سبب بن جائے جو نہ صرف اس خطے کو بلکہ دنیا کو تاریکی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
پانی کی جنگ کا خطرہ حقیقی ہے، لیکن یہ ناگزیر نہیں۔ جنگ سے بچنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ دونوں ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دریائے سندھ کا نظام ایک مشترکہ اثاثہ ہے، جسے تباہ کرنے کی بجائے سنبھالنا ضروری ہے۔ جیسا کہ موہن داس گاندھی نے کہا تھا کہ ’’پانی کی لڑائی جیتنے سے کہیں بڑھ کر، اسے بانٹنے کی ضرورت ہے‘‘۔ کیا ہندوستان اپنے قومی باپ کی نصیحت پر کان دھرنے کو تیار ہے؟