ماؤنٹ ایورسٹ مہم: چوٹی سر کر کے لوٹنے والے 2 بھارتی کوہ پیما جان سے گئے

ماؤنٹ ایورسٹ مہم: چوٹی سر کر کے لوٹنے والے 2 بھارتی کوہ پیما جان سے گئے

نیپال میں دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران دو بھارتی کوہ پیما جان کی بازی ہار گئے، جس سے کوہ پیمائی کے اس خطرناک سفر کی شدت ایک بار پھر سامنے آ گئی۔

بھارتی میڈیا اور نیپالی حکام کے مطابق دونوں کوہ پیما ارون تیواری اور سندیپ آرے نے کامیابی کے ساتھ  ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کی، تاہم نیچے اترتے وقت شدید تھکن اور خراب جسمانی حالت کے باعث دونوں جانبر نہ ہو سکے۔ایکسپیڈیشن آپریٹرز ایسوسی ایشن نیپال کے سیکریٹری جنرل رشی بھنڈاری کے مطابق سندیپ آرے کو “بالکونی” کے مقام سے “ساؤتھ کول” تک منتقل کرنے کی کوشش کی گئی، مگر وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔ ریسکیو ٹیموں اور شیرپا گائیڈز کی کوششوں کے باوجود انہیں بچایا نہیں جا سکا۔دوسری جانب ارون تیواری بھی “ہلیری اسٹیپ” کے قریب شدید تھکن کا شکار ہوئے۔ 4 شیرپا گائیڈز نے انہیں محفوظ مقام تک پہنچانے کی کوشش کی، لیکن خراب موسم اور انتہائی کم آکسیجن کے باعث ان کی جان نہ بچائی جا سکی۔

حکام کے مطابق یہ دونوں حادثات انتہائی بلندی پر موجود “ڈیتھ زون” میں پیش آئے، جہاں آکسیجن کی شدید کمی اور سخت موسمی حالات انسانی جسم کو تیزی سے کمزور کر دیتے ہیں۔واضح رہے کہ چند روز قبل ہی نیپال میں ایک ہی دن کے دوران 274 کوہ پیماؤں نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ رواں سیزن میں نیپال نے مجموعی طور پر 500 کوہ پیمائی پرمٹس جاری کیے ہیں، جو 1953 کے بعد سب سے بڑی تعداد قرار دی جا رہی ہے۔ماہرین کے مطابق کوہ پیماؤں کی بڑھتی تعداد اور موسم کی سختیاں مل کر ایورسٹ کو پہلے سے زیادہ خطرناک بنا رہی ہیں، جہاں کامیابی کے ساتھ واپسی بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔