مزدور اور ہماری زمہ داری

ْخالد حسین رضا میو
یکم مئی صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک عہد کی یاد دہانی، ایک جدوجہد کی علامت اور اْن محنت کشوں کی قربانیوں کا اعتراف ہے جنہوں نے اپنے خون پسینے سے دنیا کی ترقی کی بنیاد رکھی۔ یہ دن ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے محنت کش طبقے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی مزدور کو اس کا حق ملا، معاشرے نے ترقی کی اور جب اس کا استحصال ہوا تو عدم مساوات، غربت اور بے چینی نے جنم لیا۔یومِ مزدور دنیا بھر میں مزدوروں کی محنت، جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ یہ دن اْن افراد کے نام ہے جو اپنی مسلسل مشقت سے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پوری معیشت کو سہارا دیتے ہیں۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 37(e) کے مطابق ریاست پر لازم ہے کہ وہ ایسے حالات اور ماحول فراہم کرے جن میں مزدور باعزت طریقے سے اپنا کام انجام دے سکیں، جبکہ آرٹیکل 11 جبری مشقت، غلامی اور چائلڈ لیبر کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ اس کے باوجود زمینی حقائق اس سے مختلف نظر آتے ہیں۔انسان بہتر زندگی، آسائشوں اور اپنے اہلِ خانہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا ہے، مگر یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ محنت اور حلال رزق کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ ہمارے معاشرے میں لاکھوں افراد روزانہ صبح سویرے اپنے گھروں سے نکلتے ہیں، شدید گرمی، سردی اور مشکل حالات کا سامنا کرتے ہیں، تب کہیں جا کر ان کے گھروں کے چولہے جلتے ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو خاموشی سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہے مگر اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔پاکستان میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف قوانین اور پالیسیاں موجود ہیں، مگر اصل مسئلہ ان پر عملدرآمد کا فقدان ہے۔ ہر سال یکم مئی کے موقع پر تعطیلات، سیمینارز، جلسے اور جلوس منعقد ہوتے ہیں، مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ وعدے ماند پڑ جاتے ہیں اور مزدور پھر اسی محرومی کا شکار رہتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یومِ مزدور ایک رسمی دن بن کر رہ گیا ہے۔موجودہ پاکستانی صورتحال نے مزدور طبقے کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ آٹا، چینی، گھی، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مزدور کی پہنچ سے بنیادی ضروریات کو بھی دور کر چکا ہے۔ ایک عام مزدور کی آمدن اور اخراجات کے درمیان فرق روز بروز بڑھتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ قرض، فاقہ کشی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔توانائی بحران اور صنعتی زوال نے بھی مزدوروں کو شدید متاثر کیا ہے۔ ملک بھر میں کئی کارخانے بند ہو چکے ہیں یا اپنی پیداوار کم کر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں۔ بیروزگاری میں اضافہ نہ صرف معاشی بلکہ سماجی مسائل کو بھی جنم دے رہا ہے۔ جرائم کی شرح میں اضافہ، گھریلو تنازعات اور ذہنی امراض بھی اسی صورتحال کا نتیجہ ہیں۔مزید برآں، روپے کی قدر میں کمی اور معیشت کی غیر یقینی صورتحال نے کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، جس کا براہِ راست اثر مزدور طبقے پر پڑ رہا ہے۔ دیہاڑی دار مزدور سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، کیونکہ اس کی آمدن کا دارومدار روزانہ کے کام پر ہوتا ہے۔ اگر ایک دن کام نہ ملے تو اس کے گھر کا چولہا ٹھنڈا رہ جاتا ہے۔یہ بھی ایک المیہ ہے کہ جن مزدوروں کے نام پر یومِ مزدور منایا جاتا ہے، وہی اس دن بھی کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ انہیں نہ تو چھٹی میسر ہوتی ہے اور نہ ہی وہ اس دن کی اہمیت سے مکمل طور پر آگاہ ہوتے ہیں۔ ایک مزدور کی سب سے بڑی خواہش صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بھوکا نہ سونے دے اور انہیں بنیادی سہولیات فراہم کر سکے۔پاکستان میں مزدور اور کسان کی محنت کا پھل اکثر سرمایہ دار اور جاگیردار طبقہ سمیٹ لیتا ہے۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے طبقاتی فرق کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایک طرف امیر طبقہ عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے تو دوسری طرف مزدور طبقہ بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہا ہے۔ یہ عدم توازن کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کا جائزہ لیں تو وہاں مزدوروں کو نہ صرف بہتر اجرت بلکہ تعلیم، صحت، رہائش اور سماجی تحفظ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ فیکٹریوں کے ساتھ اسکول، اسپتال اور دیگر سہولیات موجود ہوتی ہیں۔ مزدور کو ادارے کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے، اور اسے عزت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ممالک ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔پاکستان میں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم محض نعروں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کریں۔ مزدوروں کی رجسٹریشن، سوشل سکیورٹی، انشورنس، مناسب اجرت، اوقاتِ کار کی پابندی، فنی تربیت اور جدید ٹیکنالوجی سے آگاہی جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ لیبر قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر نظام قائم کرے۔اس کے ساتھ ساتھ نجی شعبے اور صنعتکاروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ انہیں چاہیے کہ وہ مزدوروں کو بہتر ماحول، مناسب تنخواہ اور دیگر سہولیات فراہم کریں تاکہ وہ دلجمعی سے کام کر سکیں۔ مزدور اور آجر کے درمیان اعتماد کا رشتہ ہی ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے۔معاشرے کے ہر فرد کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے اردگرد کام کرنے والے افراد کے ساتھ عزت اور انصاف کا برتاؤ کرنا چاہیے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مزدور صرف ایک فرد نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی بنیاد ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر ہم ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کے خواہاں ہیں تو ہمیں اپنے مزدور کو عزت، تحفظ اور اس کا جائز حق دینا ہوگا۔ یومِ مزدور محض ایک رسمی دن نہیں بلکہ ایک عہد ہے کہ ہم محنت کش طبقے کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور ان کے روشن مستقبل کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔ کیونکہ مزدور خوشحال ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا۔ یہی یومِ مزدور کا اصل پیغام اور ہماری قومی ذمہ داری ہے۔