یوم مزدور اور مزدور کی غیر یقینی زندگی

 محمد راشد تبسم
یوم مزدور ہر سال آتا ہے، تقریبات ہوتی ہیں، بینرز لگتے ہیں، تقاریر گونجتی ہیں، اور چند گھنٹوں کے لیے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے مزدور کا حق ادا کر دیا ہو۔ مگر اگلے ہی دن وہی حقیقت واپس آ جاتی ہے جس سے ہم نظریں چراتے ہیں۔ مزدور پھر اپنے کام پر ہوتا ہے، اسی حالات میں، اسی روزمرہ جدوجہد کے ساتھ۔ اس کی ضرورت ہر جگہ محسوس کی جاتی ہے، مگر اس کی زندگی کو سمجھنے کی کوشش کم ہی کی جاتی ہے۔ ہم نے ہمیشہ اس کے ہاتھوں کی طاقت کو دیکھا، مگر اس کے ذہن کی تھکن کو نظر انداز کیا۔
یہ صرف احساس نہیں، اب عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ عالمی ادارہ محنت اور عالمی ادارہ صحت کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ کام کی جگہ پر ذہنی دباو، غیر یقینی صورتحال، ہراسانی اور مسلسل فکری دباو ایک بڑے عالمی بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اندازوں کے مطابق ایسے نفسیاتی عوامل ہر سال لاکھوں اموات اور اربوں ورکنگ ڈیز کے ضیاع سے جڑے ہیں۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ ان کروڑوں مزدوروں کی خاموش کہانی ہے جو دن بھر کام کرتے ہیں مگر اندر سے ٹوٹتے جا رہے ہیں۔
 ان اعدادو شمار کے پیچھے چھپی حقیقت تعمیراتی سائٹوں، بھٹوں، ورکشاپوں، منڈیوں اور فیکٹریوں کے دروازوں پر نظر آئے گی۔ وہاں وہ لوگ نظر آئیں گے جو صبح سویرے روزگار کی تلاش میں نکلتے ہیں اور شام کو یوں واپس آتے ہیں جیسے صرف جسم نہیں بلکہ پورا دن، پوری فکر، پورا ذہن تھکا کر لائے ہوں۔ ان کے کپڑوں پر گرد، ہاتھوں پر سختی، چہروں پر پسینہ اور آنکھوں میں ایک خاموش سی تھکن ہوتی ہے۔ دیکھنے والا ہی جسمانی مشقت سمجھتا ہے ، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ جسم کا بوجھ تو اکثر اتر جاتا ہے، مگر ذہن کا بوجھ رات بھر باقی رہتا ہے۔
دیہاڑی دار مزدور کے لیے ہر صبح ایک نئے دن کا آغاز نہیں بلکہ ایک نئے امتحان کی شروعات ہوتی ہے۔ اسے یہ یقین نہیں ہوتا کہ آج کام ملے گا یا نہیں، اور اگر مل بھی جائے تو پوری اجرت ملے گی یا اس میں کٹوتی کر دی جائے گی۔ کل کیا ہوگا، اس کا بھی کوئی واضح جواب اس کے پاس نہیں ہوتا۔ بارش ہو جائے تو روزگار بند، بیماری آ جائے تو آمدن بند، ٹھیکیدار ناراض ہو جائے تو کام ختم۔ اس کی زندگی میں اگر کوئی چیز مستقل ہے تو وہ غیر یقینی ہے، اور یہی غیر یقینی انسان کو آہستہ آہستہ اندر سے توڑ دیتی ہے۔ وہ بظاہر چلتا پھرتا دکھائی دیتا ہے، مگر اندر سے اس کی توانائی کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔
وہ جب صبح گھر سے نکلتا ہے تو صرف اوزار نہیں اٹھاتا۔ وہ بیوی کے آٹے کا سوال، بچے کی فیس، ماں کی دوا، مکان مالک کے تقاضے اور ادھار دینے والے کی نظریں بھی ساتھ لے کر نکلتا ہے۔ دن بھر وہ جسمانی طور پر کام میں مصروف ہوتا ہے، مگر ذہنی طور پر حساب کتاب میں الجھا رہتا ہے۔ شام کو سب سے بڑا سوال یہی ہوتا ہے کہ کمائی کو کس طرح تقسیم کرے، کس ضرورت کو پورا کرے اور کس کو موخر کرے۔ یہی وہ دباو ہے جو اس کے ذہن کو مسلسل تھکاتا رہتا ہے۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم صرف وہ تھکن دیکھتے ہیں جو آنکھ کو نظر آتی ہے۔ جسم کا درد محسوس ہو جاتا ہے، مگر ذہن کی تھکن نہیں دیکھی جاتی۔ پسینہ دکھائی دیتا ہے، مگر بے خوابی نظر نہیں آتی۔ اسی لیے ہم مزدور کی جسمانی حفاظت پر تو بات کرتے ہیں، مگر اس کی ذہنی کیفیت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہیلمٹ، دستانے اور جوتے ضروری ہیں، مگر کیا یہ اس شخص کے لیے کافی ہیں جس کے ذہن پر ہر وقت خوف اور بے یقینی کا دباو ¿ ہو؟
اس پر سماجی رویوں کا دباو بھی ایک الگ مسئلہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں مزدور سے کام لینا آسان سمجھا جاتا ہے، مگر اسے عزت دینا مشکل ہو گیا ہے۔ ٹھیکیدار کی سخت بات، مالک کی بلند آواز، دکاندار کا طنز اور گاہک کی بے رخی عام باتیں بن چکی ہیں۔ مگر یہ باتیں بظاہر معمولی لگتی ہیں، اندر سے بہت گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ جب کسی انسان کو بار بار یہ احساس دلایا جائے کہ اس کی حیثیت صرف ضرورت تک محدود ہے تو اس کے اندر خود اعتمادی کم ہونے لگتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان صرف روٹی سے نہیں جیتا، اسے عزت بھی چاہیے ہوتی ہے۔ جب عزت کم ملے تو آدمی کام کرتا رہتا ہے، مگر اندر سے ٹوٹنے لگتا ہے۔ یہی اندرونی بکھراو پھر اس کے رویے میں بھی نظر آتا ہے۔ کئی مزدور شام کو گھر آ کر خاموش ہو جاتے ہیں، کچھ معمولی بات پر چڑچڑا پن دکھاتے ہیں، اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جیسے ان کے پاس بولنے کی طاقت ہی نہیں رہتی۔ گھر والے اکثر اسے بد مزاجی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہ مسلسل ذہنی دباو کی تھکن ہوتی ہے۔ جو شخص سارا دن اپنی بے بسی کو دباتا رہا ہو، اس سے ہر وقت مسکراہٹ کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ بعض خاموشیاں دراصل بہت کچھ کہہ رہی ہوتی ہیں۔
نیند بھی ایسے شخص کے ساتھ انصاف نہیں کرتی۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مزدور تھک کر فوراً سو جاتا ہوگا، مگر حقیقت مختلف ہے۔ جس کے ذہن میں قرض، خرچ، بیماری اور اگلے دن کی فکر ہو، اسے گہری نیند کہاں ملتی ہے۔ آنکھیں بند ضرور ہو جاتی ہیں، مگر ذہن مسلسل جاگتا رہتا ہے۔ رات جسم کو ساکت کر دیتی ہے، مگر فکر کو نہیں روک سکتی۔ اسی لیے وہ صبح تازہ دم نہیں ہوتا، بلکہ صرف ایک نئے دن کی جدوجہد کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔
غربت میں باپ ہونا ایک مستقل ذہنی آزمائش ہے۔ اپنے لیے چیزیں نہ لینا آسان ہوتا ہے، مگر بچوں کی خواہش پوری نہ کر سکنا آسان نہیں ہوتا۔ بیمار ماں کو علاج نہ دلوا سکنا، بیوی کے سوال کے جواب میں خاموش رہ جانا، یہ سب چیزیں انسان کے اندر گہرا دباو پیدا کرتی ہیں۔ یہی وہ لمحے ہیں جہاں مزدور صرف معاشی طور پر نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی کمزور ہونے لگتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی جنگ باہر کی دنیا سے کم اور اپنے اندر کے احساس ناکامی سے زیادہ ہوتی ہے۔
جب ایک پورا طبقہ اسی ذہنی کیفیت میں زندگی گزار رہا ہو تو یہ مسئلہ فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ قومی مسئلہ بن جاتا ہے۔ ذہنی طور پر تھکا ہوا مزدور کم توجہ سے کام کرتا ہے، جلد بیمار پڑتا ہے، حادثات کا شکار ہوتا ہے، اور اپنے ساتھ گھر کا دباو بھی لے آتا ہے۔ اس کے بچے بھی اسی ماحول میں بڑے ہوتے ہیں، جہاں سکون کم اور دباو زیادہ ہوتا ہے۔ یوں ایک فرد کی تھکن آہستہ آہستہ پورے معاشرے کے مزاج کو متاثر کرتی ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ بیمار ذہنوں کے ساتھ کوئی صحت مند معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ مزدور کے حق کی تعریف وسیع کی جائے۔ صرف اجرت بڑھانا یا حفاظتی سامان دینا کافی نہیں۔ کام کی جگہ پر عزت، 
بروقت ادائیگی، انسانی رویہ، مناسب آرام، شکایات سننے کا نظام اور ذہنی دباو کو سمجھنے والی پالیسی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ محفوظ مزدور صرف وہ نہیں جس کے سر پر ہیلمٹ ہو، بلکہ وہ بھی ہے جس کے ذہن پر ہر وقت خوف، ذلت اور غیر یقینی کا بوجھ نہ ہو۔
یومِ مزدور کے موقع پر ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ محنت کش کے ہاتھ کتنے مضبوط ہیں، بلکہ یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اس کے اعصاب کتنے تھک چکے ہیں۔ اس کے ہاتھوں کے چھالے تو نظر آ جاتے ہیں، مگر ذہن کے زخم نظر نہیں آتے۔ اور شاید یہی ہماری سب سے بڑی اجتماعی کمزوری ہے کہ ہم بوجھ دیکھ لیتے ہیں، مگر ذہن کا دباو محسوس نہیں کرتے۔
حقیقت یہی ہے کہ جب تک ہم مزدور کی ذہنی تھکن کو تسلیم نہیں کرتے، یومِ مزدور صرف ایک یادگار دن ہی رہے گا، عملی انصاف نہیں بن سکے گا۔