مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران خاموشی اختیار کرنے والے سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی پولی گرافک ٹیسٹ سے گزرنا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ پولی گرافک ٹیسٹ اُن تمام افراد کا ہونا چاہیے جن کی بیرون ملک جائیدادیں موجود ہیں۔بیرسٹر محمد علی سیف نے اپنے بیان میں کہا کہ عوام نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور شریف خاندان کا پولی گرافک ٹیسٹ 8 فروری 2024 کو خود ہی کر لیا تھا، جس سے ان کی سچائی اور جھوٹ کا پتہ چلا۔ ان کا کہنا تھا کہ جعلی حکومت عمران خان کا پولی گرافک ٹیسٹ کیسے کر سکتی ہے کیونکہ یہ حکومت خود جعلی ہے اور پولی گرافک ٹیسٹ کے نتائج بھی جعلی بنا سکتی ہے۔
مشیر اطلاعات نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف بنائے گئے جعلی مقدمات کے ذمہ داروں کا بھی پولی گرافک ٹیسٹ ہونا چاہیے، کیونکہ اس ٹیسٹ کے ذریعے جعلی مقدمات کی ساری حقیقت آشکار ہو جائے گی۔بیرسٹر محمد علی سیف نے خاص طور پر کہا کہ مریم نواز سمیت پورے شریف خاندان کا پولی گرافک ٹیسٹ ہونا چاہیے تاکہ تمام شکوک و شبہات ختم ہو سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی نہ تو بیرون ملک کوئی جائیداد ہے اور نہ ہی کوئی اور اثاثہ ہے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ پہلے ہی بانی پی ٹی آئی کو صادق اور امین قرار دے چکی ہے۔