اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے، جنہیں بیرونی معاونت حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے دوسرا اے پی ایس دیکھا ہے، ٹی ٹی پی کو افغانستان اور بی ایل اے کو بھارت سے مدد مل رہی ہے۔ ان کے مطابق، بی ایل اے پر بھارتی مداخلت کے واضح شواہد موجود ہیں، اور سوال اٹھایا کہ کیا ہم بھی بھارت کی طرح ردِعمل دیں؟شیری رحمٰن نے مزید کہا کہ ہم امن پسند قوم ہیں، لیکن یہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے۔ بھارت نے سویلینز پر حملے کیے، ہم نے نہیں۔ انہوں نے بھارت کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب پاکستانی شہریوں پر حملے ہوتے ہیں، بھارت کیوں خاموش رہتا ہے؟انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشتگردی دونوں ممالک میں کیوں بڑھ رہی ہے، اس پہ سنجیدہ توجہ دینا ہوگی۔ بلوچستان کے سیاسی حل کو الگ مسئلہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ یہ لوگ صرف ناراض نہیں بلکہ دہشتگردی میں ملوث ہیں۔