سینیٹ اجلاس میں شیری رحمٰن اور ہمایوں مہمند کے درمیان لفظی تکرار

سینیٹ اجلاس میں شیری رحمٰن اور ہمایوں مہمند کے درمیان لفظی تکرار

اسلام آباد:سینیٹ اجلاس کے دوران سینیٹر شیری رحمٰن اور سینیٹر ہمایوں مہمند کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

 اجلاس کے دوران اپوزیشن نے احتجاج کیا، کورم کی نشاندہی ہوئی، اور بالآخر اجلاس پیر کی شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

شیری رحمٰن اور ہمایوں مہمند کے درمیان گرما گرمی
سینیٹر ہمایوں مہمند نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یوسف رضا گیلانی احتجاجاً اپنی سیٹ پر نہیں بیٹھ رہے، لہٰذا شیری رحمٰن کو بھی اجلاس کی صدارت نہیں کرنی چاہیے۔اس پر شیری رحمٰن نے جواب دیا کہ "میں گیلانی صاحب کی اجازت سے یہاں بیٹھی ہوں۔"

سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر پر عملدرآمد نہ ہونے پر احتجاج
سینیٹر علی ظفر نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ:

"سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے باوجود انہیں ایوان میں نہیں لایا جا رہا۔"
"یوسف رضا گیلانی کے احکامات پر بھی عملدرآمد نہیں ہو رہا، اسی لیے وہ احتجاج پر ہیں۔"
"اس صورتحال میں شیری رحمٰن کو بھی اجلاس کی صدارت نہیں کرنی چاہیے۔"
اپوزیشن کا احتجاج اور کورم کی نشاندہی
اپوزیشن اراکین نے مائیک نہ ملنے پر شدید احتجاج کیا۔اپوزیشن کے شور شرابے کے بعد کورم کی نشاندہی کر دی گئی۔کورم نامکمل ہونے پر اجلاس پیر کی شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
پی ٹی آئی سینیٹرز کا میڈیا گیلری میں احتجاج
اجلاس ملتوی ہونے کے بعد پی ٹی آئی کے سینیٹرز میڈیا گیلری پہنچے، جن میں شبلی فراز، علی ظفر، عون عباس بپی، راجہ ناصر عباس اور دیگر شامل تھے۔

اہم بلز کی منظوری
ہنگامہ آرائی اور اجلاس کے ملتوی ہونے کے باوجود ایوان میں تین اہم بلز منظور کر لیے گئے، جن کا مقصد انسانی اسمگلنگ، بیرون ملک بھیک مانگنے، اور نوعمر لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے بھیجنے میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دینا ہے۔یہ اجلاس سیاسی تناؤ، اپوزیشن کے احتجاج اور حکومتی و اپوزیشن سینیٹرز کے درمیان سخت جملوں کے تبادلے کی نذر ہو گیا، تاہم انسانی حقوق سے متعلق اہم قانون سازی مکمل کر لی گئی۔