لاہور (نیٹ نیوز) جرمن فضائی کمپنی لفتھانزا کی ایک پرواز پچھلے سال 10 منٹ تک بغیر کسی فعال پائلٹ کے ہوا میں رہی۔ یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب معاون پائلٹ اچانک بیہوش ہو گیا۔ یہ واقعہ 17 فروری 2024 کو تب پیش آیا جب طیارہ جرمنی کے شہر فرینکفرٹ سے سپین کے شہر سیویل جا رہا تھا۔ اس پرواز میں 199 مسافر اور عملے کے 6ارکان سوار تھے۔ حادثے کی تحقیقات سپین کی ہوابازی کی تحقیقاتی ایجنسی CIAIAC نے کی۔ رپورٹ کے مطابق کپتان جب بیت الخلاء کے لیے کاک پٹ سے باہر گیا تو معاون پائلٹ اکیلا تھا اور اسی دوران وہ اچانک بے ہوش ہو گیا۔ اس دوران طیارے کا آٹو پائلٹ نظام فعال تھا، جس کی وجہ سے طیارہ مستحکم انداز میں پرواز کرتا رہا، تاہم معاون پائلٹ نے غیر ارادی طور پر کچھ کنٹرولز کو چھیڑا۔آواز ریکارڈ کرنے والے آلے میں ایسی آوازیں محفوظ ہوئیں جو اس کی "اچانک اور شدید غشی" کی نشاندہی کرتی ہیں۔ فضائی کنٹرولر نے رابطہ کرنے کی 3 کوششیں کیں مگر جواب نہیں ملا۔ کپتان نے جب واپس آ کر کاک پٹ کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو معاون پائلٹ کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔ 5بار عام طریقے سے دروازہ کھولنے کی کوشش کے بعد کپتان نے ایمرجنسی کوڈ استعمال کر کے کاک پٹ کا دروازہ کھولا اور فوری طور پر کنٹرول سنبھال لیا۔رپورٹ کے مطابق معاون پائلٹ کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد دی گئی جس میں ایک مسافر ڈاکٹر بھی شامل تھا۔ بعد میں معاون پائلٹ کو ہوش آ گیا اور اس نے بتایا کہ اْسے صرف اتنا یاد ہے کہ طبی عملہ اس کا علاج کر رہا تھا۔ کپتان نے پرواز کو سپین کے دارالحکومت میڈرڈ کے باراخاس ایئرپورٹ کی طرف موڑ دیا، جہاں طیارے نے بحفاظت لینڈنگ کی۔ معاون پائلٹ کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ کچھ گھنٹے زیرِ علاج رہا۔تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ معاون پائلٹ کو ایک اعصابی بیماری لاحق تھی جس کا اسے پہلے سے علم نہیں تھا اور یہ بیماری طبی معائنے کے دوران بھی سامنے نہیں آئی تھی۔ اس واقعے کے بعد اس کا میڈیکل سرٹیفکیٹ معطل کر دیا گیا ہے۔ سپین کی تحقیقاتی اتھارٹی نے اس واقعے کو "غیر معمولی صورتحال" قرار دیا، تاہم بتایا کہ ایسی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کی تربیت کپتانوں کو دی جاتی ہے۔