وفاقی حکومت نے آئندہ بجٹ میں پوائنٹ آف سیلز میں رجسٹرڈ ریٹیلرز پر ٹیکس چوری کرنے پر جرمانہ5لاکھ سے بڑھانے کا فیصلہ کرلیا

ٹیکس چوری پرجرمانہ 50لاکھ  جعلی رسیدوں کی نشان دہی کرنے والوں کے لیے انعامی سکیم لانے کی تجویز 

مانیٹرنگ کیمرہ اور نگرانی کے لیے ملازمین کی تعیناتی بھی کی جائے گی، ٹیکس چوری میں ملوث ریٹیلرز کی نشان دہی کرنے پر 10 ہزار تک انعام بھی ملے گا،دکانوں کی مانیٹرنگ یونی ورسٹی کے طلبہ کے ذریعے کرنے کی بھی تجویز،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو ایف بی آرحکام کی بریفنگ
اسلام آ باد(خصوصی رپورٹ)وفاقی حکومت نے دکانداروں سمیت کاروبار میں ٹیکس چوری روکنے کے لیے جرمانوں کی شرح بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت نے ٹیکس چوری کرنے والے دکان داروں پر جرمانے 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے تک کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ٹیکس چوری پکڑنے کے لیے جعلی رسیدوں کی نشان دہی کرنے والوں کے لیے انعامی سکیم لانے کی بھی تجویز ہے۔ایف بی آر حکام نے بتایا کہ نئے بجٹ میں ٹیکس چوری میں ملوث ریٹیلرز پر جرمانہ 5 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کیا جائے گا، آئندہ بجٹ میں پوائنٹ آف سیلز میں ریٹیلرز کی تعداد بڑھا کر 70 لاکھ روپے کا ہدف ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹیکس چوری میں ملوث ریٹیلرز کی نشان دہی کرنے پر 10 ہزار تک انعام بھی ملے گا۔ایف بی آرحکام کے مطابق بجٹ میں ریٹیلرز پر مانیٹرنگ کیمرہ اور نگرانی کے لیے ملازمین کی تعیناتی بھی کی جائے گی، آئندہ بجٹ میں پولٹری، چکن چوزہ، تمباکو گرین لیف، بیوریجز کی مانیٹرنگ کی جائے گی جبکہ رواں مالی سال شوگر ملز کی پیداوار مانیٹر کرنے سے 34.5 فیصد اضافی ٹیکس جمع کیا گیا ہے۔اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ بہت سے لوگوں کی شکایات تھیں کہ سیلز ٹیکس ریفنڈ نہیں ہو رہا ہے اب سیلز ٹیکس 72 گھنٹوں کے بجائے مہینوں میں چلا گیا ہے، ایکسپورٹرز کا ریفنڈ کیوں مہینوں تک تاخیر کا شکار ہے۔حکام نے بتایا کہ ہم ریفنڈز کے لیے پانچ ترجیحی سیکٹرز پر فوکس کر رہے ہیں ان سیکٹرز میں ٹیکسٹائل، سپورٹس گڈز کارپٹ، لیدر اور سرجیکل شامل ہیں، ترجیحی سیکٹرز کا ریٹرن ہر ماہ 18 کو ریٹرن آتا ہے اور یکم کو ریفنڈ کر دیتے ہیں اور ان پانچوں سیکٹرز میں کوئی ریفنڈ پینڈنگ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اگلے سال لوکل ریفنڈز ختم کرنے کی تجویز لا رہے ہیں، ہماری کوشش ہے ایکسپورٹرز کو ریفنڈ دیں ۔حکام کا کہنا تھا کہ لاہور، کراچی، اسلام آباد میں روزانہ ہم 20 کاروبار سیل کر رہے ہیں، ٹیکس چوری پر 5 لاکھ جرمانہ اور ایک دن کے لیے سیل کرتے ہیں اور ہم تجویز لے کر آئیں گے کہ جرمانے کی رقم کو بڑھایا جائے، جرمانے اور سیل کرنے کا سلسلہ مزید شہروں تک بڑھائیں گے۔بریفنگ کے دوران کہا گیا کہ ٹرانزیکشن کی جعلی رسیدوں کے خلاف بھی اقدامات کر رہے ہیں، جعلی رسیدوں کے معاملے پر میڈیا مہم بھی شروع کر رہے ہیں، جعلی رسیدوں کی نشان دہی کرنے والوں کو انعام دینے کا بھی سوچ رہے ہیں، اس وقت 40 ہزار دکانیں جو اس سال 60 سے 70 ہزار تک لے جائیں گے، ہماری کوشش ہے ان دکانوں کے باہر یونی ورسٹی کے طلبہ کو کھڑا کریں ہمارے پاس اتنی ورک فورس نہیں ہے کہ تمام دکانوں کی مانیٹرنگ کریں۔سینیٹ کمیٹی کو بتایا گیا کہ چوری روکنے کے لیے جرمانوں کی شرح بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ٹیکس چوری پر جرمانے کی زیادہ سے زیادہ شرح جولائی 2025 سے نافذ کیے جانے کی تجویز ہے، اس وقت کاروبار میں ٹیکس چوری پر جرمانے کی شرح 5 لاکھ روپے عائد ہے۔ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ جرمانوں کی شرح میں کمی سے ٹیکس چوری بارے اقدامات متاثر ہو رہے اور جرمانے بڑھانے کی شرح کی تجاویز پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس چوری روکنے کے لیے جلد میڈیا کمپین کا آغاز بھی کیا جائے گا، ٹیکس چوری کی شکایات دینے والوں کو انعامات دیے جانے کی تجاویز بھی ہیں اور آئندہ بجٹ میں پوائنٹ آف سیلز میں رجسٹرڈ ریٹیلرز پر ٹیکس چوری کرنے پر جرمانہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔