آرمی چیف کو فیلڈ مارشل بنانے کا فیصلہ میرا تھا،، فیصلے میں نواز شریف کیساتھ بھی مشاورت شامل تھی‘پاکستان اور بھارت زمانہ امن کی پوزیشن پر واپس آ گئے ہیں:وزیراعظم

بھارت کیساتھ  کشمیر، پانی، تجارت ‘ دہشتگردی پر بات ہوگی مذاکرات میں امریکہ کا بنیادی کردار ہوگا شہبازشریف
سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات میں مذاکرات ہو سکتے ہیں‘  سکیورٹی ایڈوائزر غیر جانبدار مقام پر بات چیت کریں ‘  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا
 جنگ کے دوران اسرائیل نے بھارت کی بھرپور مدد کی ، کالعدم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسیاں ہیں، بھارتی دہشتگردی کے ثبوت پوری دنیا کے سامنے رکھیں گے: سینئر صحافیوں سے گفتگو
اسلام آباد(آئی ا ین پی )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت زمانہ امن کی پوزیشن پر واپس آگئے، دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز میں اتفاق ہوگیا ہے،  دونوں ممالک کے سیکیورٹی ایڈوائزر غیر جانبدار مقام پر بات چیت کریں گے،بھارت کیساتھ غیرجانبدار مقام پر کشمیر، پانی، تجارت اور دہشتگردی پر بات ہوگی۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے  کیا ۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کسی بھی تیسرے ملک کی مذاکرات میں شرکت پر آمادہ نہیں، جب بھی مذاکرات ہوں گے دونوں ممالک کے ڈی جی ایم او بات کریں گے، جنگ مستقل حل نہیں دیرپا امن ہی محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے 4 اہم نکات شامل ہونگے، بھارت سے کشمیر، پانی، دہشتگردی اور تجارت پر بات ہوگی۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کو فیلڈ مارشل بنانے کا فیصلہ میرا تھا، کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے میں نوازشریف سے بھی مشاورت کرتا ہوں، اور اس فیصلے میں نواز شریف کیساتھ بھی مشاورت شامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران اسرائیل نے بھارت کی بھرپور مدد کی، اسرائیل کے ہتھیار اور فوجی ایڈوائزر بھارت کی مدد کر رہے تھے، سری نگر اور دیگر مقامات پر بھارت نے اسرائیلی ہتھیار استعمال کئے، بھارت کی جانب سے اسرائیلی ہتھیار استعمال کرنے کے شواہد موجود ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کالعدم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسیاں ہیں، بھارتی دہشتگردی کے ثبوت پوری دنیا کے سامنے رکھیں گے، جنگ بندی کی درخواست بھارت کی جانب سے کی گئی۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا، چین، ترکی اور دیگر دوست ممالک نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا