غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری، 59 فلسطینی شہید، کینسر اسپتال تباہ

غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری، 59 فلسطینی شہید، کینسر اسپتال تباہ

غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں 5 اقوام متحدہ کے کارکن اور 59 فلسطینی شہید

عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ پر بمباری کی جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے 5 کارکن اور 59 فلسطینی شہید ہوگئے۔ اس حملے میں غزہ کا واحد کینسر اسپتال بھی مکمل طور پر تباہ ہوگیا، جس کی دوبارہ تعمیر 2017 میں ترکیہ کی 3 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی امداد سے کی گئی تھی۔ اس اسپتال میں ہر سال تقریباً 10 ہزار مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا۔اسرائیلی فوج نے رفح میں بھی زمینی آپریشن شروع کیا اور شمالی علاقوں کی طرف پیش قدمی کی جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کو اپنے علاقے چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی مہاجرین (انروا) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے بتایا کہ چند دنوں میں ان کے 5 امدادی کارکن بھی اسرائیلی بمباری میں مارے گئے ہیں، جس کے ساتھ ہی انروا کے ہلاک شدگان ارکان کی تعداد 284 ہوگئی ہے، جن میں زیادہ تر اساتذہ، ڈاکٹرز اور نرسز شامل ہیں۔اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں غذائی اشیاء کی کمی شدت اختیار کر چکی ہے اور اس کے پاس صرف 6 دن کا آٹا باقی ہے۔ یونیسف کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 3 دن کے اندر کم از کم 200 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ طبی حکام کے مطابق اس دوران 590 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

ادھر، میڈیا رپورٹس کے مطابق القسام بریگیڈ نے غزہ سے تل ابیب پر متعدد راکٹ حملے کیے، جس کے بعد اسرائیل میں خطرے کے سائرن بجنے لگے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 2 راکٹ مار گرا دیے۔پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کی غزہ پر بمباری اور فلسطینیوں کے اندھا دھند قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے۔ اسی دوران، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل پر سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ کانفرنس بلانے کا اعلان کیا۔ اسرائیل کی کابینہ نے نیتن یاہو کے فیصلے کی توثیق کے بعد اسرائیلی خفیہ ایجنسی شِن بیت کے سربراہ کو برطرف کر دیا۔