اسرائیلی فوج کی غزہ میں تازہ بمباری میں اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کے طبی مرکز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 22 معصوم فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق، فلسطینی پناہ گزین بیت حنون اور بیت لاحیہ سے جبری بے دخل کیے گئے تھے اور وہ عارضی پناہ گزین کیمپوں میں رہائش پذیر تھے، جنہیں اسرائیلی فضائی حملے نے نشانہ بنایا۔اسرائیلی فوج کی اس تازہ بمباری میں اب تک 80 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے اور رفح و خان یونس کے علاقوں کو الگ کر کے انہیں "موراج کوریڈور" کا نام دیا ہے۔اس کے علاوہ، اسرائیلی فوج نے لبنان اور شام کے علاقوں پر بھی فضائی حملے کیے ہیں۔
شام کے صوبے دارا میں 11 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ لبنان میں ہونے والے حملے میں ابھی تک کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔یہ بمباری اور حملے فلسطینیوں کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن رہے ہیں، اور خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ عالمی برادری میں اس تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں انسانی بحران سنگین ہو سکتا ہے اور مزید جانی نقصان ہو سکتا ہے۔