غزہ میں اسرائیلی بمباری، 24 فلسطینی شہید، اسپتال ایندھن کی کمی کے باعث بندش کے دہانے پر

غزہ میں اسرائیلی بمباری، 24 فلسطینی شہید، اسپتال ایندھن کی کمی کے باعث بندش کے دہانے پر

غزہ میں اسرائیلی فوج کی تازہ ترین فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم 24 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی بتائی جا رہی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق البریج پناہ گزین کیمپ اور الاقصیٰ ہسپتال کے اطراف ہونے والی شدید بمباری نے علاقے میں تباہی مچا دی، جب کہ اسپتالوں کی حالت مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے۔

الشفا ہسپتال بندش کے دہانے پر
الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے بین الاقوامی برادری سے ہنگامی مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا:"ہمارے پاس صرف چند گھنٹے کا ایندھن باقی ہے، اور ہسپتال میں 100 سے زائد نوزائیدہ بچے، 350 سے زائد ڈائیلاسز کے مریض اور سینکڑوں زخمی افراد موجود ہیں۔ آکسیجن سپلائی، بلڈ بینک اور لیبارٹریز کسی بھی وقت بند ہو سکتے ہیں۔ یہ جگہ جلد ہی ایک قبرستان بن جائے گی۔"
اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی پر تنقید
انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایندھن، ادویات اور انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائیں، کیونکہ موجودہ صورتحال انسانی المیہ کی بدترین شکل اختیار کر چکی ہے۔

اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کا تسلسل
یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ غزہ میں موجود حماس کے مضبوط ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لیے حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، تاہم ان حملوں میں شہری علاقوں، اسکولوں اور ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس پر عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔