وزیراعلیٰ کا گریٹر اقبال پارک اور سرکلر پارک والڈ سٹی اتھارٹی کے حوالے کرنے کا فیصلہ

وزیراعلیٰ کا گریٹر اقبال پارک اور سرکلر پارک والڈ سٹی اتھارٹی کے حوالے کرنے کا فیصلہ

پی ایچ اے حکام نے وزیراعلیٰ پنجاب سے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے، جس میں وزیراعلیٰ نے 26 فروری کو ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ پی ایچ اے کے دونوں پارکس، گریٹر اقبال پارک اور والڈ سٹی کو والڈ سٹی اتھارٹی کے حوالے کر دیے جائیں۔

ذرائع کے مطابق، ڈی جی والڈ سٹی اتھارٹی نے اس فیصلے کے حق میں لابنگ کی تھی اور وزیراعلیٰ مریم نواز نے ان کی درخواست پر یہ فیصلہ کیا تھا۔ تاہم، پی ایچ اے کے ڈی جی نے وزیراعلیٰ سے دوبارہ فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے، کیونکہ پی ایچ اے کے مطابق، ان دونوں پارکس کی دیکھ بھال اور انتظامی کام پی ایچ اے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔یاد رہے کہ گریٹر اقبال پارک میں پنجاب حکومت نے 2016 سے قبل اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی تھی اور اسے پی ایچ اے کے ذریعے دوبارہ فعال کیا تھا۔ گریٹر اقبال پارک میں کئی جدید ترقیاتی منصوبے شامل کیے گئے تھے، جیسے کہ سرکلر روڈ کی توسیع، شاہی قلعے کی دیوار تک توسیع، ڈانسنگ فاؤنٹین، اور ہسٹری میوزیم کا قیام۔ اس کے علاوہ، پی ایچ اے نے اس پارک میں مختلف ایونٹس اور سرگرمیوں کے لیے ٹھیکے بھی دیے ہیں۔

والڈ سٹی اتھارٹی کے پاس ہارٹیکلچر کا شعبہ نہیں ہے اور نہ ہی پی ایچ اے کی طرح تجربہ کار مالیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اس کے باوجود، والڈ سٹی اتھارٹی نے پہلے بھی پی ایچ اے کے اندرون شہر علی پارک کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ پی ایچ اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر والڈ سٹی اتھارٹی کو گریٹر اقبال پارک کی تحویل دی جاتی ہے تو وہ اسے صرف کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہے گی، جس سے پارک کی اصل خوبصورتی اور عوامی فائدہ متاثر ہو سکتا ہے۔اس تمام صورت حال کے پیش نظر، پی ایچ اے حکام نے وزیراعلیٰ سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کریں تاکہ پارکوں کی بہتر دیکھ بھال اور عوام کے فائدے کے لیے صحیح حکمت عملی اپنائی جا سکے۔