ایران کے صدر کل منگل کو ایک روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے، جسے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی صدر صبح کے وقت اسلام آباد پہنچیں گے اور دن بھر مختلف اعلیٰ سطحی مصروفیات کے بعد شام کو واپس تہران روانہ ہو جائیں گے۔اس مختصر مگر اہم دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں خطے میں حالیہ کشیدگی اور سفارتی کوششوں پر بھی گفتگو کی جائے گی۔رپورٹس کے مطابق یہ دورہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے سفارتی کردار کے تناظر میں “اظہارِ تشکر” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان صورتحال نے خطے میں غیر یقینی کیفیت پیدا کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر اپنے دورے کے دوران پاکستان کی جانب سے سفارتی سطح پر ادا کیے گئے کردار اور علاقائی استحکام کے لیے کوششوں کو سراہیں گے۔
دورے کے موقع پر اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا امکان ہے، جن میں پاکستان کی قیادت کے ساتھ علاقائی سلامتی، تجارت، توانائی تعاون اور سرحدی امور پر بھی بات چیت کی جائے گی۔سرکاری ذرائع کے مطابق دورے کی تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ سیکیورٹی اور پروٹوکول کے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔سفارتی ماہرین کے مطابق یہ مختصر دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید ہم آہنگی پیدا کرنے اور خطے میں جاری سفارتی رابطوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔