21 جون کشمیر کی سیاسی تاریخ کا سنگ میل، عبدالقدیر کی للکار جدوجہد کی علامت قرار

عبدالقدیر کی تقریر نے کشمیری عوام میں سیاسی بیداری کی بنیاد ، جدوجہد کا پیغام دیا، مشتاق السلام
 سرینگر ( آن لائن ) 21 جون 1931 کو کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم اور فیصلہ کن دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جب نوجوان رہنما عبدالقدیر نے سرینگر میں اپنی جرات مندانہ تقریر کے ذریعے ڈوگرہ راج کو کھلا چیلنج دیا اور کشمیری عوام میں سیاسی بیداری کی بنیاد رکھی۔ ان کی یہ آواز بعد ازاں ایک ایسی جدوجہد کی علامت بن گئی جس نے کشمیریوں میں اپنے حقوق کے لیے منظم تحریک کا شعور پیدا کیا۔تاریخی روایات کے مطابق عبدالقدیر نے خانقاہِ معلیٰ میں اپنی تقریر کے دوران کشمیری عوام کو اپنے حقوق کے لیے متحد ہونے، ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے اور خاموشی ترک کر کے منظم جدوجہد کا راستہ اپنانے کا پیغام دیا۔ اس دور میں جب سیاسی حقوق کا تصور کمزور تھا اور سچائی کو دبانے کی کوشش کی جا رہی تھی، عبدالقدیر کشمیری عوام کی توانا آواز بن کر سامنے آئے۔سینئر حریت رہنما مشتاق السلام نے نوجوان رہنما عبدالقدیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ڈوگرہ سامراج کے سامنے علمِ بغاوت بلند کر کے عوامی حقوق کی حقیقی ترجمانی کی۔ ان کے بقول عبدالقدیر کی تقریر نے کشمیری عوام کو یہ احساس دلایا کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنے کے بجائے اپنے حق کے لیے متحد اور منظم ہونا ناگزیر ہے۔رپورٹس کے مطابق 25 جون 1931 کو عبدالقدیر کو گرفتار کر لیا گیا، تاہم ان کی گرفتاری آواز دبانے کے بجائے ایک بڑی تحریک کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ بعد ازاں ضیاء￿  الدین اندرابی، چوہدری غلام عباس اور سردار ابراہیم جیسے رہنما بھی اسی عوامی شعور اور سیاسی تحریک کے تسلسل کی نمایاں شخصیات بن کر سامنے آئے۔تجزیہ کاروں کے مطابق عبدالقدیر کی تقریر اور گرفتاری محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ کشمیریوں میں اجتماعی سیاسی شعور، مزاحمت اور منظم جدوجہد کے آغاز کی ایک مضبوط علامت ہے، جس نے کشمیر کی سیاسی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔