سیالکوٹ کھاریاں موٹروے منصوبہ تاخیر کا شکار، لاگت میں بڑا اضافہ

 تاخیر کی بڑی وجوہات میںروٹ میں تبدیلی، دریائے چناب پر پل کی تعمیر ، زمین کے حصول میں رکاوٹیں اور ڈیزائن میں تبدیلیاں شامل ہیں
اسلام آباد(آئی این پی)سیالکوٹ سے کھاریاں تک مجوزہ موٹروے منصوبہ (M-12) کئی سال گزرنے کے باوجود تاخیر کا شکار ہے، تاہم حکام کے مطابق منصوبے پر دوبارہ کام تیز کر دیا گیا ہے۔ 69 کلومیٹر طویل اس موٹروے کو لاہورسیالکوٹ موٹروے (M-11) کی توسیع قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق منصوبے میں تاخیر کی بڑی وجوہات میں روٹ میں تبدیلی، دریائے چناب پر پل کی تعمیر سے متعلق تکنیکی مسائل، زمین کے حصول میں رکاوٹیں اور ڈیزائن میں تبدیلیاں شامل ہیں۔ ابتدا میں یہ منصوبہ چار لین کا تھا، تاہم بعد میں اسے چھ لین موٹروے میں تبدیل کیا گیا جس سے لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ابتدائی طور پر منصوبے کی لاگت تقریبا 22 سے 27 ارب روپے کے قریب بتائی گئی تھی، تاہم نظرثانی کے بعد لاگت بڑھ کردگنا ہو گئی ہے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق منصوبے کا ارتھ ورک اور دیگر تعمیراتی کام مختلف مراحل میں جاری ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق ارتھ ورک میں نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے جبکہ پلوں اور دیگر ڈھانچوں پر بھی کام جاری ہے۔حکام کے مطابق سیالکوٹ کھاریاں موٹروے کی تکمیل کے بعد سیالکوٹ، گجرات، کھاریاں اور گردونواح کے علاقوں کو براہ راست موٹروے نیٹ ورک سے بہتر رابطہ ملے گا، جبکہ صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔ منصوبے کو آئندہ چند برسوں میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ بعض حکام نے 2028 تک تکمیل کی توقع ظاہر کی ہے۔ماہرین کے مطابق منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے باقی زمین کا حصول، فنڈز کی فراہمی اور تعمیراتی رفتار برقرار رکھنا بنیادی چیلنجز ہوں گے۔