مومنہ اقبال نے ہراسانی کیس کو ذاتی معاملہ قرار دینے پر خاموشی توڑ دی

مومنہ اقبال نے ہراسانی کیس کو ذاتی معاملہ قرار دینے پر خاموشی توڑ دی

پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال نے پنجاب اسمبلی کے باہر سامنے آنے والی ایک وائرل ویڈیو کے بعد اپنے زیرِ سماعت مقدمے پر تفصیلی ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہراسانی، دھمکیوں اور تحفظ سے متعلق معاملات کو کسی صورت ذاتی معاملہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

یہ معاملہ اس وقت دوبارہ زیرِ بحث آیا جب پنجاب اسمبلی کے باہر ایک ٹی وی رپورٹر نے مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ سے ان کے خلاف درج مقدمے سے متعلق سوال کیا۔ رپورٹر کے سوال پر ثاقب چدھڑ نے کہا کہ میڈیا کو ان کی ذاتی زندگی سے متعلق سوالات نہیں کرنے چاہئیں اور صرف اسمبلی کے معاملات پر بات کرنی چاہیے۔اس ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر ایک بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ کئی سال تک جاری رہنے والی مبینہ ہراسانی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کو ذاتی معاملہ قرار دینا باعثِ حیرت ہے۔مومنہ اقبال نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے ریاستی اداروں سے ہراسانی اور دھمکیوں کے خلاف تحفظ اور انصاف کی درخواست کی، اس لیے یہ معاملہ صرف دو افراد کے درمیان ذاتی تنازع نہیں بلکہ ایک قانونی معاملہ ہے۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ اگر ایسے سنگین واقعات کو ذاتی معاملہ قرار دے دیا جائے تو پھر گھریلو تشدد، تشدد، قتل اور دیگر جرائم کو بھی نجی معاملات کہا جا سکتا ہے، جو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں متعدد بار کوشش کی گئی کہ ان کے مقدمے کو میڈیا کی توجہ سے دور رکھا جائے اور ان کی آواز دبائی جائے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی خاموشی کو کمزوری یا کسی دباؤ کا نتیجہ نہ سمجھا جائے۔مومنہ اقبال نے کہا کہ انہوں نے عدالتی عمل پر اعتماد کرتے ہوئے صبر کا مظاہرہ کیا اور امید ہے کہ فیصلہ قانون اور میرٹ کے مطابق ہوگا۔اداکارہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی صلح کی خبروں کو بھی مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی قسم کی مفاہمت نہیں ہوئی اور مقدمہ اب بھی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ ان کے مطابق دوسری جانب سے متعدد پیشیوں پر التوا کی درخواستیں دی جا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ مومنہ اقبال کے وکیل پہلے بھی مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ اداکارہ اور ملزم ایک دوسرے کو 2022 سے جانتے تھے اور مبینہ طور پر شادی کی پیشکش بھی کی گئی تھی۔ وکیل کے مطابق بعد میں مومنہ اقبال کو معلوم ہوا کہ متعلقہ شخص پہلے سے شادی شدہ ہے اور مبینہ طور پر مزید شادی کا ارادہ رکھتا ہے، جس کے بعد انہوں نے رشتہ مسترد کر دیا۔وکیل کے مطابق اس کے بعد مبینہ طور پر دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوا، جس پر اداکارہ نے قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔ یہ مقدمہ تاحال عدالت میں زیرِ سماعت ہے، جبکہ فریقین کے مؤقف کا فیصلہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔